سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 8 مرحلے میں پاکستان کی انگلینڈ شکست کے فوری بعد بعض شائقین نے ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کے اہلِ خانہ، خاص طور پر ان کی بیوی اور بیٹے کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔
سلمان آغا کی اہلیہ صبا نے انسٹاگرام پرایک اسٹوری میں اس رویے کی شدید مخالفت کی اور لکھا کہ “مجھے یا میرے معصوم بیٹے کو گالیاں دینے سے آپ ورلڈکپ نہیں جیتیں گے، اس پوسٹ کے بعد کرکٹ حلقوں میں بھی اس رویے پر سخت تنقید سامنے آئی۔
سابق اور موجودہ کھلاڑیوں نے کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کو کھیل کے جذبے کے خلاف قرار دیا، جنوبی افریقا کے اسپنر تبریز شمسی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ یہ احمقانہ رویہ پریشان کن ہے، اور ہار یا جیت کھیل کا حصہ ہے، لیکن اہلِ خانہ کو نشانہ بنانا درست نہیں۔
Its this type of stupid behaviour that pisses me off!!!! 😡
Yeah u can be sad that your team lost, winning and losing is part of sport but there is no need to abuse players families
This goes for fans from all different countries
Have some respect for others please!
Thank you https://t.co/DlDhKlM5IV
— Tabraiz Shamsi (@shamsi90) February 25, 2026
انہوں نے شائقین سے اپیل کی کہ وہ دوسروں کے احترام کا خیال رکھیں اور کھیل کے دوران مہذب رویہ اختیار کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ نوجوان شائقین کے لیے بھی غلط مثال قائم کرتا ہے، کھیل کا اصل مقصد جذبہ، محنت اور کھیل کی روح کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ کھلاڑیوں کے خاندان کو ہدف بنانا۔
