ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے سانحہ گل پلازہ آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق عمارت میں آگ دو بچوں کے آگ سے کھیلنے کے باعث لگی۔
کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں ایس ایس پی عارف عزیز نے کہا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور وہ خود بھی جائے وقوعہ پر موجود رہے۔ ان کے مطابق پولیس ٹیم 9 دن اور 9 راتیں مسلسل موقع پر تعینات رہی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات میں بتایا گیا تھا کہ دو بچے آگ سے کھیل رہے تھے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ پولیس نے دونوں بچوں کو طلب کرکے ان کے بیانات قلمبند کیے، جن میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ آگ سے کھیل رہے تھے۔
کمیشن کے سربراہ کی جانب سے سی سی ٹی وی ریکارڈ سے متعلق سوال پر ایس ایس پی نے بتایا کہ عمارت سے ملنے والی زیادہ تر ڈی وی آر جل چکی تھیں۔ تاہم بیسمنٹ سے ایک ڈی وی آر ملی جس میں کچھ ویڈیوز محفوظ تھیں۔ ویڈیوز میں ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر افراد کو عمارت سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
جسٹس آغا فیصل کا اہم اقدام، گل پلازہ سے بچ نکلنے والے 6 افراد طلب
ایس ایس پی عارف عزیز کے مطابق ان کی رائے میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ بچوں کی جانب سے آگ سے کھیلنا تھا، جبکہ عمارت میں موجود سامان نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔
واضح رہے کہ گل پلازہ کراچی کے بڑے تجارتی مراکز میں سے ایک تھا جس میں آگ لگنے کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق جب کہ تاجروں کا اربوں روپے کا سامان جل کر خاکسترہوگیا ، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔
