بنگلا دیش کے نئے وزیرِ کھیل امین الحق نے بھارت اوربی سی سی آئی( Board of Control for Cricket in India ) کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلا دیش کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں عدم شرکت کے معاملے کو جلد از جلد مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بڑا اپ سیٹ، آسٹریلیا ٹورنامنٹ سے باہر
حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امین الحق کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات کی جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور بنگلا دیش ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ جاری مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، جو بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جا رہا ہے، میں بنگلا دیش کو اس وقت شامل نہیں کیا گیا جب سابق حکومت نے ٹیم کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ حکومت کی خواہش تھی کہ میچز سری لنکا میں کھیلے جائیں، تاہم سفارتی تناؤ کے باعث معاملہ سنگین ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارتی حکومت نے آئی پی ایل فرنچائزکلکتہ نائٹ رائڈرز( Kolkata Knight Riders )کو ہدایت کی کہ وہ بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان Mustafizur Rahman کو اسکواڈ سے خارج کرے۔ بعد ازاں آئی سی سی ( International Cricket Council) نے بنگلا دیش کو ایونٹ سے باہر کر دیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔
بھارت سے شکست پر باتیں ہو رہی ہیں، لیکن ہمارا ہدف ورلڈ کپ جیتنا ہے، شاداب خان
تاہم 9 فروری کو آئی سی سی نے اعلان کیا کہ بنگلا دیش کو بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ مزید برآں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو 2031 کے مینز ون ڈے ورلڈکپ سے قبل ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا حق بھی دیا گیا ہے۔
امین الحق نے کہا کہ اگر سفارتی معاملات پہلے طے پا جاتے تو بنگلا دیش کی ٹیم ورلڈکپ میں شرکت کر سکتی تھی۔ یاد رہے کہ بھارتی ٹیم نے رواں سال ستمبر میں بنگلا دیش کا دورہ کرنا ہے جہاں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔ یہ سیریز پہلے ہی طے شدہ ہے۔
