اسلامی عبادات میں روزے کا ایک مرکزی مقام اور بنیادی اہمیت ہے، اِسے ارکانِ دین میں تیسرا رُکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
درحقیقت، روزہ صبر و ضبط اور تزکیہ نفس کا بہترین مظہر ہے، یہ ایک ایسی عبادت ہے، جس کا تصور الہامی اور غیر الہامی مذاہب کی تاریخ میں ملتا ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔“ (سُورۃ البقرہ / 183)
ارکان اسلام کے پانچ بنیادی ستون
قرآنِ کریم کی اِس ہدایتِ ربّانی سے یہ معلوم ہُوا کہ روزے کا حقیقی مقصد تقویٰ کا حصول ہے، جب کہ تقویٰ اور پرہیز گاری اسلامی عبادات کی بنیادی رُوح ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویؐ میں کم و بیش ہر عبادت اور نیک عمل کا بنیادی مقصد ”تقویٰ“ ہی کو قرار دیا گیا ہے۔
خود کو خواہشاتِ نفس کی پیروی سے روکنا، نفس کے بے لگام گھوڑے کو لگام دینا اور دِین کی اتّباع میں مصروفِ عمل رہنا روزے کی حقیقی رُوح ہے، جو درحقیقت تقویٰ اور پرہیزگاری کے حصول کے بعد ہی ممکن ہے۔
اِس سلسلے میں رسولِ اکرم ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”روزہ ڈھال ہے، لہٰذا روزہ رکھنے والا نہ بے ہُودہ بات کرے اور نہ جاہلوں والے کام کرے، اگر کوئی اُس سے جھگڑا کرے یا بُرا بھلا کہے، تو وہ کہہ دے کہ ”مَیں روزے دار ہُوں۔“ رمضان المبارک میں عموماً ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ راہ چلتے ایک دوسرے سے اُلجھ پڑتے ہیں، بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بسا اوقات نوبت دست و گریباں ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔
سفر کرتے وقت یا خریداری کے موقع پر جس عجلت اور بے صبری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، یہ بھی ضبطِ نفس کے منافی عمل اور روزے کی حقیقی رُوح کے برخلاف ہے۔ آپؐ نے ایک موقعے پر تاکید کے طور پر دو مرتبہ ارشاد فرمایا ”اُس پروردگار کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے، روزہ دار کے مُنہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے ہاں مُشک کی خُوش بُو سے زیادہ عُمدہ اور پاکیزہ ہے، (اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) ”وہ (روزہ دار) اپنا کھانا، پینا اور شہوت میری وجہ سے چھوڑتا ہے، روزہ تو میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کا بدلہ دُوں گا اور ایک نیکی کا اجر دس گُنا ہے۔“(بخاری/ الجامع الصحیح)
صحابی رسولؐ، حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”جنّت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے، جسے”باب الرّیّان“ کہا جاتا ہے، اس دروازے سے قیامت کے روز صرف روزے داروں کا داخلہ ہوگا، اُن کے سِوا اس دروازے سے کوئی اور داخل نہیں ہوسکے گا، اُس دن پُکارا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ بندے! جو اللہ کے لیے روزے رکھا کرتے تھے(اور بُھوک پیاس کی تکلیف اُٹھایا کرتے تھے)، وہ اُس دن پکار پر چل پڑیں گے، اُن کے سِوا اس دروازے سے کسی اور کا داخلہ نہیں ہوسکے گا۔ جب وہ روزے دار اس دروازے سے جنّت میں پہنچ جائیں گے، تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہوسکے گا۔“ (صحیح بخاری)
ایک اور حدیثِ قدسی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”ابنِ آدم کے ہر عمل کا ثواب بڑھتا رہتا ہے، اُسے ایک نیکی کا ثواب دس گُنا سے سات سو تک ملتا ہے اور اس سے زائد اللہ جتنا چاہے، اُتنا ملتا ہے، مگر روزے کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ”وہ تو میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار اپنی خواہشات اور کھانا پینا میری وجہ سے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی اُسے افطار کے وقت ملتی ہے اور ایک خوشی اپنے ربّ سے ملاقات کے وقت ملے گی، روزہ دار کے مُنہ کی بُو اللہ کے ہاں مُشک کی خُوش بُو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ (ابنِ ماجہ، السنن، باب فضل الصّیام)
چوں کہ تقویٰ اور پرہیزگاری روزے کی حقیقی رُوح ہیں، تو اگر اِن عظیم مقاصد کا حصول نہیں ہوتا، تو یہ سمجھا جائے گا کہ گویا روزہ رکھا ہی نہیں گیا، یا یہ کہا جائے گا کہ جسم کا روزہ تو ہوگیا مگر رُوح کا روزہ نہیں ہُوا۔
اِس حقیقت کی وضاحت کے لیے رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کا ارشادِ مبارک پیشِ نظر رکھا جائے کہ آپؐ نے فرمایا ”جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ اور فریب کے کام نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ انسان اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔“
رسالتِ مآبﷺ کے ارشادِ گرامی”روزہ ڈھال ہے۔“کا بھی یہی بنیادی تقاضا ہے، ورنہ محض بھوکے پیاسے رہنے سے روزے کے حقیقی تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔چناں چہ، معلمِ کتاب و حکمت، نبی رحمت ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے”روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو، تو وہ اپنی زبان سے بے ہودہ بات نہ نکالے اور نہ شور ہنگامہ کرے اور اگر کوئی اس سے گالم گلوچ کرے یا لڑائی جھگڑے پر آمادہ ہو، تو اُسے چاہیے کہ وہ یہ کہہ دے کہ”مَیں تو روزے سے ہوں۔“(بخاری و مسلم)
جمعرات 19 فروری کو پہلا روزہ ہوگا، عمان حکومت نے اعلان کر دیا
رسولِ اکرم ﷺ کا یہ فرمانِ گرامی ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا”جس شخص نے روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا، تو اللہ کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔“(صحیح بخاری)
ایک موقعے پر آپؐ نے ارشاد فرمایا ”کتنے ہی بدقسمت روزے دار ہیں کہ جنہیں اپنے روزے سے سِوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی (رمضان کی بابرکت راتوں میں) قیام کرنے والے ہیں (تراویح پڑھنے والے ہیں) جنھیں اپنی تراویح سے سِوائے جاگنے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔“
