واشنگٹن: ناسا نے زمین کو خطرناک ایسٹرائڈز سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں سخت انتباہ جاری کر دیا۔ جو ممکنہ طور پر عالمی سطح پر تباہی مچا سکتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (NASA) نے زمین کو ممکنہ طور پر تباہ کن ایسٹرائڈز سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر تباہ کرنے والے ہزاروں درمیانے سائز کے خطرناک خلائی پتھر اب تک دریافت نہیں ہو سکے۔
ناسا کی عبوری پلانٹری ڈیفنس افسر کیلی فاسٹ کے مطابق دنیا میں تقریباً 15 ہزار ایسے ایسٹرائڈز موجود ہو سکتے ہیں۔ جن کا قطر کم از کم 140 میٹر ہے اور جو کسی بڑے شہر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے امریکی ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ آف سائنس کی سالانہ کانفرنس میں بتایا کہ اندازاً 25 ہزار ایسے خلائی اجسام میں سے اب تک صرف 40 فیصد کی نشاندہی کی جا سکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ شہر تباہ کرنے والے ایسٹرائڈز زمین کی جانب بڑھیں تو موجودہ وقت میں انہیں روکنے کا کوئی مکمل اور آزمودہ نظام دستیاب نہیں۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ سیاروی سائنسدان ڈاکٹر نینسی چیبوٹ نے خبردار کیا ہے کہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ برس وائی آر فور نامی ایک ایسٹرائڈ کے زمین سے ممکنہ تصادم کی پیشگوئی نے ماہرین کو متحرک کر دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ وہ زمین سے دور جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں اس نوعیت کا کوئی ایسٹرائڈ زمین یا چاند سے ٹکرائے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سائبر خطرات کیخلاف ریڈ الرٹ، اسٹیٹ بینک کا ملک گیر پلان جاری
ناسا کا کہنا ہے کہ اگرچہ مکمل دفاعی نظام ابھی موجود نہیں۔ تاہم پیشگی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی پر کام جاری ہے۔
