لاہور ہائیکورٹ نے سولر نیٹ میٹرنگ کی نیپرا اورحکومتی پالیسی کےخلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات انتہائی اہم ہیں،عدالت معاملے کاگہرائی سے جائزہ لے گی،وفاقی حکومت، نیپرااور لیسکو جواب جمع کرائیں،اٹارنی جنرل عدالتی معاونت کےلئے پیش ہوں۔
سولر نیٹ میٹرنگ قوانین پر نظرثانی کیلئے نیپرا میں درخواست دائر
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے تحریری فیصلہ جاری کیا،عدالت کا عبوری تحریری فیصلہ دو صفحات پر مشتمل ہے۔
درخواست گزاروں کےوکیل نعمان قیصر نے دلائل دئیے،جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ لانا صارفین کے حقوق پر ڈاکا ہے۔
نیپرا کے نئے قوانین آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں،حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ کا وعدہ توڑ دیا،نئی پالیسی سولر سسٹم پر سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں پربوجھ بن گئی۔
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی فی الحال روک دی ہے، اویس لغاری
عدالت پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو برقرار رکھنےکےاحکامات جاری کرے،درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد فوری روکنے کاحکم دے۔
