وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ایم نائن موٹروے پر پیش آنے والے مہلک حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
بہاول پور سے کراچی جانے والی بس خوفناک حادثے کا شکار، 11 افراد جاں بحق، 15 شدید زخمی
وفاقی وزیر نے ہدایت جاری کی ہے کہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل حادثے کی مکمل تحقیقات کریں اور جلد از جلد تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ جاری بیان میں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کے عمل کو مزید سخت بنایا جائے، خاص طور پر ٹائروں کی حالت کو خصوصی طور پر چیک کیا جائے۔
موٹروے پر خوفناک حادثہ، بس کی ٹرک سے ٹکر میں 4 افراد جاں بحق،20 زخمی
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ایسی تمام گاڑیوں کو موٹروے پر داخلے کی اجازت نہ دی جائے جن کے ٹائر گھسے ہوئے، کمزور یا زائد المعیاد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے میں داخلے سے قبل تمام گاڑیوں کا مکمل معائنہ یقینی بنایا جائے تاکہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگرچہ کمرشل ٹرانسپورٹ کی سخت جانچ ضروری ہے تاہم نجی گاڑیوں کی بھی مکمل سیفٹی چیکنگ ہونی چاہیے۔ انہوں نے موٹروے پولیس کو ہدایت کی کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر چلنے والی ہر گاڑی کیلئے مقررہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔
ملک میں ایک اور نئی موٹر وے بنانے کا فیصلہ،روٹ بھی سامنے آگیا
عبدالعلیم خان نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔
حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ موٹروے پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
یاد رہے گزشتہ روز ایم نائن موٹر وے پر آئل ٹینکر اور مسافر بس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 14افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
