اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3سالہ قانونی جنگ کےبعد میاں بیوی کے درمیان صلح ہوگئی ،عدالتی حکم نامے پر میاں بیوی نے اکٹھے رہنے کی رضامندی کے دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہرکوحکم دیا کہ اہلیہ کو تاحیات الگ پورشن میں رکھیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا ،بچے پراپرٹی نہیں ہوتے۔
درختوں کی کٹائی،وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع
مردوں کا تربیتی فقدان ہے،عورت والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے اس کو احترام ملنا چاہیے،مرد ذرا بیوی کے گھر رہ کر دکھائے ناں،مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے۔
معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا مسئلہ ہے۔
