اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی ٹیم کے سابق سربراہ ایمی درور نے ایک پوڈکاسٹ میں نیتن یاہو خاندان سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایمی درور کے مطابق وزیرِ اعظم کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے ایک موقع پر اپنے والد پر جسمانی حملہ کیا، جس کے بعد صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ سکیورٹی اہلکاروں کو مداخلت کرنا پڑی۔ سابق سکیورٹی چیف کا کہنا ہے کہ اسی واقعے کے بعد یائر نیتن یاہو کو امریکا کے شہر میامی منتقل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔
پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے ایمی درور نے بنیامین نیتن یاہو کی ذاتی اخلاقیات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وزیرِ اعظم اکثر ریستورانوں میں کھانے کے بعد بل ادا نہیں کرتے تھے بلکہ اخراجات اپنے عملے یا محافظوں پر ڈال دیتے تھے۔
ایمی درور نے مزید الزام عائد کیا کہ بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو چوری کے رجحان میں مبتلا ہیں اور انہوں نے خود ہوٹلوں سے تولیے اور ریاست کی ملکیت میں آنے والے تحائف غائب ہوتے دیکھے۔
سابق سکیورٹی سربراہ کے مطابق حالیہ برسوں میں سارہ نیتن یاہو گھر میں طاقت کا اصل مرکز بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سارہ نیتن یاہو نے ہی اپنے شوہر کو عدالتی تصفیے سے روک رکھا تاکہ وہ اقتدار میں رہیں، کیونکہ وہ اپنے بیٹے یائر کو مستقبل میں اپنے والد کا جانشین دیکھنا چاہتی ہیں۔
ایمی درور کا مزید کہنا تھا کہ بنیامین نیتن یاہو اکثر اپنی اہلیہ اور بیٹے کے غصے سے بچنے کے لیے خود کو کمرے میں بند کر لیتے تھے۔
پوڈکاسٹ کے اختتام پر ایمی درور نے خواہش ظاہر کی کہ بنیامین نیتن یاہو کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور جیل بھیجا جائے، ان کے مطابق وزیرِ اعظم نے سیاسی مفادات کے لیے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ناکام بنائے اور تحائف وصول کر کے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
