اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے متعلق مزید انکشافات سامنے آ گئے ۔
پولیس کے مطابق حملہ آور یاسر خودکش جیکٹ پہن کر نوشہرہ سے اسلام آباد پہنچا، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا اور حملے سے قبل قریبی ہوٹل میں تھوڑی دیر بیٹھا پھر کھنہ روڈ سے پیدل امام بارگاہ تک پہنچا۔
پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام ، 5 مبینہ خودکش حملہ آور گرفتار
پولیس نے مزید بتایا کہ بمبار یاسر ڈیڑھ سال گھر سے غائب رہا اور کبھی کبھار گھر فون کرتا تھا۔
یاد رہے مسجد خدیجة الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے سے 33 نمازی شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے، حملے میں چار سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
