بھارت کے سابق مایہ ناز آف اسپنر روی چندرن ایشون (ravichandran ashwin)نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ممکنہ طور پر بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے سکتا ہے اور آئندہ چند روز میں اس حوالے سے یوٹرن سامنے آسکتا ہے۔
پاکستان کا کھیلنے سے انکار،بھارتی کپتان کا ردعمل آ گیا
اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے ایشون نے کہا کہ ان کے خیال میں پاک بھارت مقابلہ ہر صورت کھیلا جائے گا کیونکہ یہ صرف ایک میچ نہیں بلکہ عالمی کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سو فیصد یقین ہے کہ پاکستان اپنا فیصلہ تبدیل کر لے گا اور دونوں ٹیمیں میدان میں مدمقابل آئیں گی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں حکومتِ پاکستان نے قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کی اجازت دی تھی، تاہم 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کھیلنے سے روک دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے مقابلے پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔
پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ،سابق برطانوی کرکٹر کھل کر بول پڑے
ایشون کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگلے چار سے پانچ روز میں اس معاملے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود اس بڑے مقابلے کا شدت سے منتظر ہوں اور امید ہے کہ شائقین کو یہ ہائی وولٹیج میچ دیکھنے کو ملے گا۔
سابق بھارتی کرکٹر نے مالی پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان واقعی میچ کا بائیکاٹ کرتا ہے تو اس سے صرف ایک ٹیم نہیں بلکہ پوری کرکٹ انڈسٹری متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق براڈکاسٹرز، اسپانسرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان بھارت کیخلاف ورلڈ کپ میں میچ کیوں نہیں کھیلے گا؟وجوہات سامنے آ گئیں
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو آئی سی سی کی سطح پر بھی اٹھایا جا سکتا ہے، جہاں دیگر بورڈز یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے فیصلے کی وجہ سے انہیں مالی نقصان ہو رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں مستقبل میں باہمی تعلقات اور ایونٹس پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت مقابلہ کرکٹ کی دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ ہوتا ہے اور شائقین بھی اس کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں، اس لیے امکان یہی ہے کہ آخرکار دونوں ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔
