اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے معروف صحافی ارشد شریف کے قتل کیس سے متعلق ازخود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے کیس نمٹاتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
ارشد شریف قتل کیس کے ازخود نوٹس کے فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) پر دستخط ہو چکے ہیں۔ اور دونوں ممالک کی حکومتیں معاملے پر مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ اس لیے اس مرحلے پر عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ تحقیقات اور ٹرائل میں عدالتی مداخلت شفاف عمل کے منافی ہے۔ جبکہ تحقیقات پولیس اور متعلقہ اداروں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ اسی بنیاد پر سوموٹو کیس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانی عوام کے دکھ کو عدالت سمجھتی ہے۔ تاہم ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: بسنت فیسٹیول کے موقع پر صفائی کے خصوصی انتظامات، عملے کی چھٹیاں منسوخ
14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا۔ جبکہ کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
