پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ متاثرین کی معاونت کے لیے جاری فنڈز کی ایک ایک پائی کا حساب رکھا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے متاثرین کو معاوضوں اور امدادی رقوم کی ادائیگی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت دی کہ وادی تیراہ کے متاثرین کو امدادی رقوم کی جلد ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ایک ہفتے کے اندر تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے۔ اور متاثرین کو کی جانے والی ادائیگیوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین کی معاونت کیلئے جاری فنڈز کی ایک ایک پائی کا حساب رکھا جائے گا۔ اور ادائیگیوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ متاثرین کی بحالی اور معاونت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت کے ذمے بقایا معاوضوں کی ادائیگی کے لیے متعلقہ حکام کو خطوط لکھنے کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی بحالی اور معاونت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ متاثرین کی مدد کے لیے مختص 4 ارب روپے میں سے اب تک 90 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ وادی تیراہ کے 17 ہزار متاثرہ گھرانوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے۔ جبکہ روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار گھرانوں کو امدادی رقوم کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ ، گرفتار کرکے عدالت پیش کرنیکا حکم
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ وادی تیراہ کے متاثرین کو ادائیگیوں کے عمل کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ جبکہ بکاخیل کیمپ میں مقیم متاثرین کو ماہانہ بنیادوں پر امدادی رقوم کی ادائیگی جاری ہے۔
