آئی سی سی کی جانب سے بنگلا دیش کو مینز ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے اعلان نے عالمی کرکٹ اور بین الاقوامی کھیلوں میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے اثرات محض کرکٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ بھارت کی 2036 اولمپکس کی میزبانی کی امیدوں پر بھی گہرے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے نکالنے کا معاملہ،سری لنکا کا ردعمل آ گیا
تفصیلات کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ماہ ہونے والے مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلا دیش کی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کے گروپ میچز بھارت کے بجائے شریک میزبان سری لنکا میں منتقل کیے جائیں۔
بنگلا دیشی حکام کا مؤقف ہے کہ خدشات کے باوجود آئی سی سی نے ان کے تحفظات کو نظرانداز کیا، جو کھیل میں مساوی سلوک کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس فیصلے کے بعد آئی سی سی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور ماضی کے متعدد فیصلوں کو بھارت کے حق میں قرار دینے کے الزامات بھی ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔
انڈر 19ورلڈ کپ،پاکستانی ٹیم کو بڑا دھچکا لگ گیا
ادھر پاکستان سمیت بعض دیگر کرکٹ بورڈز بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان بنگلا دیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پرسخت مؤقف پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب اس تنازع کے اثرات اولمپک سیاست تک جا پہنچے ہیں۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے اندر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کھیلوں میں سیاسی دباؤ اور جانبداری بھارت کی 2036 اولمپکس میزبانی کی بولی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس دوڑ میں بھارت کو قطر کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
آئی سی سی کا بڑا فیصلہ،ورلڈ کپ سے قبل معروف کرکٹرمعطل
ماہرین کے مطابق اگر عالمی کھیلوں کے اداروں پر جانبداری کے الزامات برقرار رہے تو یہ نہ صرف کرکٹ بلکہ مستقبل کے بڑے اسپورٹس ایونٹس کے فیصلوں کو بھی متنازع بنا سکتا ہے، جس سے کھیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
