سانحہ گل پلازہ کی 21 صفحات کی انکوائری رپورٹ آگئی جس میں تہلکہ خیز انکشافات کئے گئے ہیں۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ فلاور اینڈ گفٹ شاپ سے لگی، دکان مالک نعمت اللہ دکان 11 سالہ بچے کے حوالے کر کے چلا گیا،ماچس جلانے سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی،آتش گیر مواد کے باعث آگ نے تیزی سے پوری عمارت کو لپیٹ میں لیا۔
سانحہ گل پلازہ، جوڈیشل انکوائری کیلئے وزیراعلیٰ کا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط
پڑوسی دکان کے ورکر نے واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا،کم عمر بچوں کو دکان میں چھوڑنا سنگین غفلت قراردیا گیا، فلور چوکیدار نے آگ کے 5 منٹ بعد بجلی بند کی،بجلی بند ہونے سے پلازہ میں موجود 2500 افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
غیر محفوظ برقی نظام بھی آگ کی شدت بڑھنے کی وجہ بنا،واقعے کے وقت گراؤنڈ فلور کے 3 سے 4 گیٹس کھلے تھے،گراؤنڈ فلور پر آگ کے باعث سیڑھیوں میں دھواں بھر گیا،راستے بند ہونے سے متعدد افراد شاپس میں محصور ہو گئے۔
انکوائری کمیٹی نے مزید کہا کہ رات 10:50 سے 10:55 تک آگ تھرڈ ڈگری میں تبدیل ہو چکی تھی،آگ نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، فائر فائٹنگ آلات ناکارہ ہو گئے،شدید آگ کے باعث دستیاب فائر فائٹنگ سامان مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔
آگ کیسے لگی، اموات کی تعداد کتنی؟ کمشنر کراچی نے گل پلازہ آتشزدگی کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی
فائر بریگیڈ کو پانی کی فراہمی میں سنگین تاخیر ہوئی،پہلا واٹر باؤزر رات 11بج کر 53 منٹ پر موقع پر پہنچا، مسلسل پانی کی فراہمی آدھی رات کے بعد شروع ہو سکی،میزنائن فلور پر پھنسے افراد کیلئے میٹل کٹر دستیاب نہیں تھے۔
لوہے کی جالیاں کاٹنے میں تاخیرسے ریسکیو متاثر ہوا،فائر فائٹرز کے پاس مناسب آلات اور حفاظتی گیئر نہیں تھا، فائر آڈٹس ہوئے، عملدرآمد جانچنے کا کوئی مؤثر فالو اَپ نہیں ہوا۔
کے ایم سی، سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کی رپورٹس فائلوں تک محدود رہیں،عمارت میں راہداریوں کی نشاندہی تک نہیں کی گئی تھی۔
