امریکا کے معروف کرکٹر اور بیٹر آرون جونز( Aaron Jones ) پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اینٹی کرپشن کوڈ کی پانچ سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے سے معطل کر دیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق آرون جونز کو الزامات کا جواب دینے کے لیے 14 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

31 سالہ آرون جونز اس وقت سری لنکا میں جاری امریکی ٹیم کے تربیتی کیمپ کا حصہ تھے، جہاں 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری کی جا رہی تھی۔ امریکا کی جانب سے تاحال ورلڈ کپ کے لیے حتمی اسکواڈ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم امکان تھا کہ کیمپ میں موجود 18 کھلاڑیوں میں سے 15 رکنی ٹیم منتخب کی جائے گی۔ معطلی کے بعد آرون جونز اب انتخاب کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو بڑی یقین دہانی کرادی
آئی سی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق آرون جونز پر عائد الزامات کی اکثریت 24-2023 کے بیم 10 (Bim10) ٹورنامنٹ سے متعلق ہے، جو بارباڈوس میں منعقد ہوا تھا اور کرکٹ ویسٹ انڈیز (سی ڈبلیو آئی) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ دو الزامات بین الاقوامی میچز سے بھی متعلق ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق آرون جونز پر میچ فکسنگ یا میچ کے نتیجے، پیش رفت یا طرزِ عمل پر غیر قانونی اثر انداز ہونے، مشکوک پیشکشوں کی اطلاع نہ دینے، تفتیش میں تعاون سے انکار، آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کو مکمل معلومات فراہم نہ کرنے اور شواہد چھپانے یا ان میں رد و بدل کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی ایک وسیع تر تحقیقات کا حصہ ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں دیگر کھلاڑیوں یا افراد پر بھی الزامات عائد کیے جائیں گے۔
ٹی20 ورلڈ کپ بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
آرون جونز نے 2019 میں بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا اور امریکا کی جانب سے 52 ون ڈے اور 48 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انہوں نے کینیڈا کے خلاف شاندار 94 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ پاکستان کے خلاف تاریخی فتح میں ناقابلِ شکست 36 رنز بنا کر ٹیم کو کامیابی دلائی تھی۔
آرون جونز مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز جیسے کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل)، میجر لیگ کرکٹ (ایم ایل سی) اور بنگلا دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں بھی شرکت کر چکے ہیں، تاہم وہ اپریل 2025 کے بعد کسی بین الاقوامی میچ میں نظر نہیں آئے۔ اس پیش رفت نے امریکی کرکٹ میں ہلچل مچا دی ہے اور شائقین کی نظریں اب آئی سی سی کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔
