پنجاب میں بسنت کے موقع پر اسکولوں میں 10 دن کی چھٹیوں کی زیر گردش خبروں کا ڈراپ سین ہوگیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے بسنت کے تہوار کے باعث یکم فروری سے 10 فروری 2026 تک صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
پنجاب:تعلیمی کیلنڈر میں بڑی تبدیلی کی تیاری، گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کی سفارش
نوٹیفکیشن میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسکولوں کی چھتیں بسنت کے جشن کے لیے لیز یا نیلام کی جا سکتی ہیں اور ضلعی تعلیمی حکام کو اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس نوٹیفکیشن پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سیکرٹری مدثر ریاض ملک کے دستخط بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سیکرٹری مدثر ریاض ملک، جن کا نام اس وائرل نوٹیفکیشن پر درج ہے،کہتے ہیں ان کے محکمے کی جانب سے یکم فروری سے 10 فروری تک اسکول بند کرنے کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
لاہور: فروری کے آغاز پر 4 چھٹیاں ایک ساتھ دینے پر غور
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے بھی تصدیق کی ہےکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ نوٹیفکیشن مکمل طور پر جعلی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بسنت کے سلسلے میں صوبے بھر کے اسکولوں میں چھٹیوں کا کوئی امکان نہیں ہے اور پنجاب کے تمام اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ بسنت کی سرگرمیاں ہفتہ اور اتوار کے روز آ رہی ہیں، جو کہ پہلے ہی معمول کی چھٹیاں ہوتی ہیں، اس لیے اسکولوں کو اضافی طور پر بند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
