سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں۔
سپریم کورٹ میں او جی ڈیل سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے سابق وزیر کی نظر ثانی درخواست پر وکلاء کو تیاری کرنے کی ہدایت کی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ تقرری کیلئے اشتہار دیا جاتا ہے، بادشاہ تو نہیں کہ بس آرڈر کر دیا۔ اس موقع پر نیب کے وکیل نے کہا کہ وزیر کے پرنسپل اسٹاف آفیسر نے لکھا کہ نوکریوں کیلئے پارلیمنٹ کا دباؤ ہے۔
عدالت نے کہا کہ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں گنجائش سے زیادہ بھرتیاں ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پی آئی اے کا انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ساتھ موازنہ کریں ناں، نیب کے وکیل نے کہا کہ پی آئی اے میں زیادہ بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی۔
جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے، پاکستان
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ جس وقت بھرتیاں کی گئیں اس وقت احتساب کمیشن کا قانون نہیں تھا، متعلقہ وفاقی وزیر سزا تو بھگت چکے ہیں،سزا کا ایک داغ تو ہے، کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کی۔
