واشنگٹن میں پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی پر بین الاقوامی جریدہ دی ڈپلومیٹ بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا۔
پاکستان کی اسٹریٹجک سمجھداری، واشنگٹن میں خود کو دوبارہ ناگزیر اور قابل اعتماد شراکت دار ثابت کر دیا، پاکستان نے مضبوط سفارتکاری سے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی۔
امریکا کی متعدد ریاستیں شدید برفانی طوفان کی زد میں، 10 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ
عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ نے بھی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی تعریفوں کے پل باندھ دیے، دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے اسٹریٹجک سمجھداری اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
دی ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مئی 2025 کے پاک بھارت تنازعے کے دوران بھارت نے امریکی ثالثی کے دعوے کو مسترد کیا تاہم پاکستان نے اس بحران کو سفارتی موقع میں بدلتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کردار کو سراہا۔ اس مثبت طرزِ عمل کے نتیجے میں پاک امریکا تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔
جریدے کے مطابق پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا جبکہ ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف نے بھی وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔ ان ملاقاتوں کے دوران صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کے درمیان گفتگو محض سیکیورٹی تک محدود نہ رہی بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری جیسے اہم شعبوں تک پھیل گئی۔
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس کے برعکس بھارت جو کبھی امریکا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا، اس وقت سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ امریکا اور بھارت کے تعلقات گہری منجمد کیفیت میں داخل ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ تو بھارت کو کواڈ سمٹ کی میزبانی ملی، نہ صدر ٹرمپ کا دورہ نصیب ہوا اور نہ ہی کوئی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا، تجارتی معاہدہ نہ ہونے پر امریکا نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف بھی عائد کر دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیروں میں بھارتی حکومت کے رویے پر شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کے ساتھ انسدادِ دہشتگردی تعاون بحال ہوا ہے، جس سے پاک امریکا تعلقات کے ایک پرانے اور اہم ستون کو نئی زندگی ملی ہے۔
امریکا نے بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر کے پاکستان کے مؤقف کی تائید بھی کی ہے۔
خاتون کی رضامندی کے بغیر طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ
دی ڈپلومیٹ کے مطابق جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی تجدید پر بھی زور دیا، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ پاکستان ایک متوازن، خودمختار اور کثیر الجہتی خارجہ پالیسی پر گامزن ہے۔
عالمی جریدے کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان نے دانشمندانہ سفارتکاری کے ذریعے نہ صرف علاقائی بحران کو اپنے حق میں بدلا بلکہ واشنگٹن میں اپنی اہمیت کو ایک بار پھر منوا لیا جبکہ بھارت سفارتی اور تجارتی محاذ پر شدید دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے۔
