سرکاری ملازمین کی وفات کے بعد ان کے بچوں کو ملازمت دینے کے کوٹہ سے متعلق اہم کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی اپیل پر ابتدائی سماعت کے بعد تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔
وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ کو پہلا حکم جاری
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا سال 2024 کا فیصلہ ماضی سے نافذ العمل نہیں کیا گیا بلکہ اس کا اطلاق مخصوص قانونی دائرہ کار میں ہے۔
سندھ حکومت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق نہ تو مستقبل میں ہوگا اور نہ ہی زیرِ التواء معاملات پر تاہم یہ تشریح درست نہیں۔
وکیل سندھ حکومت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ماضی کے فیصلوں اور پہلے سے طے شدہ معاملات کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی درست تشریح نہیں کی۔
جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا
عدالت نے دلائل سننے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
