وزارتِ توانائی کی ہدایت پر لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے سولر گرین میٹرز(solar green meter) کی تنصیب پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں گھریلو اور صنعتی صارفین سولر گرین میٹر کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔
لیسکو حکام کے مطابق نیپرا کی جانب سے سولر گرین میٹر لگانے کی اجازت اور ہدایات موجود تھیں، تاہم وزارتِ توانائی نے حالیہ فیصلے کے تحت گرین میٹرز کی تنصیب روکنے کا حکم دیا ہے۔
سولر صارفین کیلئے بڑی آواز بلند ہوگئی
لیسکو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ وزارتِ توانائی کے احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں، اسی لیے فوری طور پر سولر گرین میٹرز کی تنصیب معطل کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ایک سے دو ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ اس دوران نئی سولر گرین میٹر پالیسی مرتب کیے جانے کا امکان ہے۔ نئی پالیسی کے اجراء کے بعد ہی گرین میٹرز کی تنصیب کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
لیسکو حکام کے مطابق پابندی کے باعث وہ صارفین بھی متاثر ہوں گے جنہوں نے پہلے ہی سولر سسٹم نصب کر رکھا ہے اور گرین میٹر کے لیے درخواستیں جمع کرا دی تھیں۔ ان صارفین کو اب نئی پالیسی کے اعلان تک انتظار کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق لیسکو نے نہ صرف گھریلو بلکہ صنعتی صارفین کے لیے بھی سولر گرین میٹرز لگانا بند کر دیا ہے، جس سے صنعتی شعبے میں توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کو بھی وقتی دھچکا لگا ہے۔
سولر انرجی صارفین کیلئے بڑا دھچکا ، پینل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
لیسکو حکام کا مزید کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف لیسکو تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کی تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے بھی سولر کنکشن اور گرین میٹرز کی تنصیب روک دی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق سولر گرین میٹرز کی تنصیب پر پابندی سے صارفین میں بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ مہنگی بجلی کے باعث بڑی تعداد میں صارفین شمسی توانائی کی طرف منتقل ہو رہے تھے۔
صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی پالیسی جلد از جلد واضح کی جائے تاکہ سولر توانائی کے منصوبے التوا کا شکار نہ ہوں۔
