وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے سٹی کورٹ کراچی میں معروف یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلاء کی جانب سے حملہ کیے جانے کے واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بالکل ناقابل قبول ہے اور اس کی سختی سے مذمت کی جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدالت میں موجود کورٹ پولیس کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملزمان کو محفوظ طریقے سے عدالت میں لے جائے، تاہم اس کے باوجود رجب بٹ پر تشدد ہونا باعث تشویش ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
رجب بٹ پر حملہ، شدید زخمی ہوگئے
تفصیلات کے مطابق رجب بٹ عبوری ضمانت کے حصول کے لیے سٹی کورٹ کراچی میں پیش ہوئے تھے۔ پیشی کے دوران اچانک وکلاء کے ایک گروہ نے ان پر حملہ کردیا۔ تشدد کے باعث رجب بٹ زمین پر گر گئے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت پیش آئی، واقعے کے فوراً بعد پولیس اور عدالتی عملے نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں، نہ ہی وکلاء تنظیموں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد سٹی کورٹ کے احاطے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سائلین اور دیگر افراد نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
جوئے کی پروموشن کیس، رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانتیں منظور
ادھر عدالت نے رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کردی۔ عدالتی کارروائی مختصر رہی، جس کے بعد زخمی یوٹیوبر کو عدالتی احاطے سے باہر منتقل کردیا گیا۔ قریبی ذرائع کے مطابق رجب بٹ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے تاہم انہیں مزید طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔
