انگلینڈ کے فاسٹ بولر جوش ٹنگ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ شدید انجریز کے باعث ایک مرحلے پر کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر غور کر چکے تھے، تاہم حوصلہ نہ ہارنے کا فیصلہ آج ان کے کیریئر کا سب سے درست انتخاب ثابت ہوا۔
میلبرن میں کھیلے گئے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹنگ نے انگلینڈ کو 15 برس بعد آسٹریلیا میں ٹیسٹ فتح دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جوش ٹنگ نے پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو 152 رنز پر ڈھیر کر دیا، جبکہ دوسری اننگز میں بھی اہم بریک تھرو فراہم کیے۔ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے ٹنگ کا کہنا تھا کہ باکسنگ ڈے کی صبح اعصابی دباؤ ضرور تھا، مگر آنرز بورڈ پر اپنا نام دیکھنا ایک خواب کی تعبیر ہے۔
28 سالہ فاسٹ بولر طویل عرصے تک مختلف انجریز کا شکار رہے۔ کیریئر کے آغاز میں انہیں تھوریسک آؤٹ لیٹ سنڈروم کا سامنا کرنا پڑا، بعد ازاں 2023 میں سینے کے پٹھے اور پھر ہیم اسٹرنگ کی انجری نے انہیں ایک بار پھر میدان سے دور کر دیا۔ طویل بحالی کے بعد انہوں نے 2025 کے آغاز میں قومی ٹیم میں واپسی کی۔
جوش ٹنگ نے اعتراف کیا کہ جسمانی مسائل کے باعث وہ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ چکے تھے، مگر مسلسل محنت اور صبر نے انہیں دوبارہ کرکٹ کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ ان کے مطابق انگلینڈ کے لیے کھیلنا ہمیشہ ان کا خواب رہا ہے اور وہ اس فیصلے پر آج مکمل طور پر مطمئن ہیں۔
Our 12th man.
Through highs and lows.
You’ve never stopped singing.Thank you for all your support in Melbourne, England fans ❤️ pic.twitter.com/cVzgbAe7Zn
— England Cricket (@englandcricket) December 27, 2025
یہ فتح انگلینڈ کی آسٹریلیا میں 15 برس بعد پہلی ٹیسٹ کامیابی ہے، اگرچہ سیریز میں آسٹریلیا کو 3-1 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہے۔ ایشز سیریز کا آخری ٹیسٹ 3 جنوری سے سڈنی میں کھیلا جائے گا۔
