پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے گندم فوڈ پاس 26-2025 کے حوالے سے اہم خدشات اور حقائق سامنے رکھتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال پہلی بار گندم کی کوٹہ الاٹمنٹ میں فلور ملز کے ساتھ ٹریڈرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم ٹریڈرز کے لیے کوئی واضح حد یا ضابطہ مقرر نہیں کیا گیا۔ جس سے شفافیت پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹریڈرز کو کوٹہ دینے کا اصل مقصد سندھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی گندم سبسڈی کا ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔ سندھ حکومت 100 کلوگرام گندم کی بوری 8 ہزار روپے میں فراہم کرتی ہے۔ مگر ٹریڈرز یہی گندم فلور ملز کو 9 ہزار 500 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔ اس طرح فی بوری ایک ہزار 500 روپے کا فرق سامنے آ رہا ہے۔ جس کے بارے میں تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ رقم کس کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
حکومت نے گندم سبسڈی کے لیے 85 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ مگر یہ رقم عملی طور پر کس کے فائدے میں جا رہی ہے۔ اس حوالے سے کوئی شفاف وضاحت موجود نہیں۔ فلور ملز کو تاحال گندم فراہم نہیں کی گئی، جبکہ ٹریڈرز کو باقاعدگی سے گندم دی جا رہی ہے، جو امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے لانڈھی گودام میں موجود گندم کی خراب حالت پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق یہ گندم تقریباً 4 سال پرانی اور بوسیدہ ہو چکی ہے۔ جس کے استعمال سے فوڈ پوائزنگ کا خدشہ ہے۔ تاہم فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے مشترکہ معائنہ کرانے سے انکار کر رکھا ہے۔ جبکہ اس حوالے سے متعدد خطوط اور ملاقات کی درخواستوں پر بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سندھ کی فلور ملز کو صرف 8 سے 15 ہزار بوریاں الاٹ کی گئیں۔ جن میں سے تقریباً آدھی گندم خراب ہے۔ اس کے برعکس ٹریڈرز لاکھوں ٹن گندم کراچی اور سندھ کے مختلف گوداموں سے پنجاب اور خیبرپختونخوا منتقل کر رہے ہیں۔ جس سے سندھ کے عوام کے لیے مختص سبسڈی براہ راست ٹریڈرز کی جیب میں جا رہی ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ٹریڈرز کو دی گئی گندم کی الاٹمنٹ منسوخ کی جائے۔ اور تمام گندم فلور ملز کو فراہم کی جائے۔ تاکہ عوام کو آٹے کی بلا تعطل اور معیاری فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ میں گندم کا اسٹاک 5.11 ملین ٹن ظاہر کیا گیا۔ جبکہ حقیقت میں ذخیرہ شدہ مقدار 7.5 سے 8.5 ملین ٹن تک بتائی جا رہی ہے۔ اس اضافی گندم کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ کیونکہ یہی ذخیرہ صوبے کی کم از کم 3 ماہ کی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے ایک لاکھ 74 ہزار نان فائلرز کی نئی فہرست تیار کر لی
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کے کوٹہ سسٹم میں شفافیت لائی جائے۔ ٹریڈرز کو کوٹہ دینے کا سلسلہ بند کیا جائے اور سندھ کی عوام کو ان کا حق فراہم کیا جائے۔
