ماسکو، روس کے 17 سالہ نوجوان نے اپنے ہیموگلوبن اور آئرن لیول بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا کی ایک ویڈیو دیکھ کر اپنا ہی خون پی لیا۔
ماسکو سے میڈیا رپورٹ کے مطابق نوجوان نے سرنج کے ذریعے اپنا خون نکال کر پیا، لیکن چند ہی دیر بعد اس کی طبیعت خراب ہو گئی اور متلی، خون کی قے اور بخار لاحق ہو گیا، جس کے بعد اہل خانہ نے فوری طور پر ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی۔ ڈاکٹروں نے اسے شدید زہر آلودگی کے طور پر تشخیص کرتے ہوئے اسپتال میں داخل کیا۔
چین میں نوجوان نے اپنے تحائف کی واپسی کیلئے منگیتر پر مقدمہ کر دیا
ڈاکٹروں نے اب نوجوان کی حالت مستحکم کر دی، لیکن اس زہر آلودگی کی وجہ جان کر حیرت کا اظہار کیا۔ 17 سالہ نوجوان نے بتایا کہ اس نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اپنا خون پینے سے آئرن لیول بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ اسے اس عمل کے خطرات کا علم نہیں تھا۔
میڈیا کے مطابق ڈاکٹر آندرے کونڈراخن نے کہا کہ انسانی معدہ خون کو ہضم یا پراسیس کرنے کے قابل نہیں ہے، اور اس کے پینے سے زہر آلودگی کے آثار ظاہر ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ خون میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ معدے میں جلن پیدا کرتا ہے، مثال کے طور پر، معدے میں السر کے دوران خون نکلنے پر جسم اسے ایک جارحانہ عنصر کے طور پر دیکھتا ہے، خون کا پلازما معدے میں اس شکل میں نہیں ہضم ہوتا، اور جسم نہیں جانتا کہ اسے کیسے پراسیس کرے۔
فٹ بال کے میدان کے برابر، دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا جزیرہ
انہوں نے مزید کہا کہ اس طریقے سے جسم ہیموگلوبن میں موجود آئرن حاصل نہیں کر سکتا، یہ ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے، جس کا نتیجہ صرف قے اور صحت کے مسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے اور کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
نوجوان کی یہ خطرناک حرکت سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید کا سبب بنی، صارفین نے اسے طنز اور مزاح کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اس کے جسم میں آئرن نہیں ہے، تو اس نے اپنے خون میں موجود آئرن استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، واقعی ایک ذہین قدم۔ جبکہ ایک اور صارف نے کہا کہ اب گیارہویں جماعت میں انسانی جسم کا علم نہیں پڑھایا جاتا؟
