سخت مقابلے کے بعد عارف حبیب کنسورشیم(arif habib consortium) نے پی آئی اے کی نجکاری کی بولی جیت لی۔
تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کاعمل مکمل ہوگیا،عارف حبیب کنسورشیم نے 135ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے،لکی سیمنٹ کنسورشیم نے 134ارب روپے کی آخری بولی لگائی تھی۔
پی آئی اے شعبہ انجینئرنگ کومخصوص الاؤنس دینےکا فیصلہ
دوسری جانب ایئربلیو کی جانب سے پی آئی اے کیلئے صرف 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی گئی تھی،یاد رہے عارف حبیب کنسورشیم میں عارف حبیب لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکول اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔
چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی
چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری حکومت کی پالیسی ہے،پی آئی اے بڈنگ سے سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی،اپریل میں حکومت نے بڈرز کو اس بارےمیں آگاہ کیا،2بڈرز نے 100فیصد اور 2نے 75 فیصد خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔
کینیڈا میں پائلٹ سمیت عملے کی سیاسی پناہ کی درخواست؟ پی آئی اے نے وضاحت کر دی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی بولی لگی ،پی آئی اے کی نجکاری ایجنڈے کا حصہ ہے،92.5فیصد فنڈز پی آئی اے پر ہی خرچ ہوں گے،اپریل میں 51سے100فیصد شیئرز فروخت کرنےکا فیصلہ کیا۔
حکومت کا مقصد ادارے کو بیچنا نہیں بلکہ پاؤں پر کھڑا کرناہے،75فیصد شیئرز کے بعد فروخت کا فیصلہ کیا،90روز کے اندر مزید 25فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کیاہے،دوتہائی پیمنٹ شروع میں حاصل کی جائےگی۔
نئے سرمایہ کار کو کیا کچھ منتقل ہوگا؟
نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جائے گی جبکہ باقی 7.5 فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔
نجکاری حکام کے مطابق ممکنہ سرمایہ کار کو اگلے پانچ سال کے دوران پی آئی اے کو مستحکم کرنے کے لیے 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
پاکستان کی جیت ہوئی،پی آئی اے کی پرانی ساکھ بحال کریں گے،عارف حبیب
نئے سرمایہ کار کو ایوی ایشن، کارگو بزنس، ٹریننگ ونگ اور کچن بزنس دیا جائے گا۔ شرائط کے مطابق پی آئی اے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل ہوگا جبکہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی۔
نئے مالکان موجودہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ ادارے کے مالی استحکام کے لیے فوری سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ انتظام ناگزیر ہوگا۔
