وزیراعظم نے وزیر پاور ڈویژن کو بجلی کے ویلنگ چارجز کو مناسب سطح پر لانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری،پاورڈویژن کا اہم بیان آ گیا
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت معاشی ترقی کے لیے توانائی کے شعبے کے حوالے سے تشکیل دئیے گئے نجی شعبے کے ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران شریک ہوئے۔
حکومت مزید بجلی نہیں خریدے گی، مسابقتی مارکیٹ متعارف کرانے کا فیصلہ
وزیراعظم کو معاشی ترقی کے لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئی، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں میں بنائے گئے مختلف ورکنگ گروپس کی سفارشات مکمل ہونے کے بعد معیشیت کی ترقی کا قومی پروگرام ترتیب دیا جائےگا۔

بجلی کے ترسیل کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے حکومت کی تمام توجہ مرکوز ہے،بھرپور کوشش ہے کہ صنعتوں کو علاقائی مسابقتی نرخوں پر بجلی ملے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ ، بجلی فی یونٹ 72 پیسے سستی ہونے کا امکان
وزیراعظم نے شہزاد سلیم کی سربراہی میں نجی شعبے سے مشاورت کے حوالے سے بنائی گئی توانائی کی کمیٹی کی محنت اور کاوشوں کی تعریف کی۔
اجلاس میں ٹیرف اسٹرکچر، بجلی کی ترسیل کے حوالے سے مشکلات، مناسب نرخوں اور بجلی کے شعبے سے متعلق دیگر امور پر سفارشات پیش کی گئیں،اجلاس کو بجلی کی ٹرانسمشن اور وولٹیج کے نظام کو قابل اعتماد بنانے کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کی گئیں۔
