راولپنڈی: علیمہ خان نے مذاکرات کی بات کرنے والے پارٹی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لیڈر مذاکرات کی بات کرتے ہیں وہ عمران خان کے مؤقف کے ساتھ نہیں اور نہ ہی ان کے حقیقی ساتھی ہیں۔
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران حکومت سے مذاکرات کی بات کرنے والے پارٹی رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال 22 نومبر کو پرامن احتجاج کی کال دی تھی۔ جبکہ مجھ پر محض یہ الزام عائد کیا گیا کہ میں نے پارٹی چیئرمین کا پیغام عوام تک پہنچایا۔
انہوں ںے کہا کہ ہمارے خلاف پولیس اہلکاروں کو بلا کر گواہی کے لیے کھڑا کیا جاتا ہے۔ جھوٹی گواہی دینے والوں کو بھی سزا ہونی چاہیے۔ اور پاکستان میں انصاف ختم ہو چکا ہے۔ تاہم عدلیہ میں اچھے ججز موجود ہیں مگر ان کی نہیں سنی جاتی۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کرتے رہے۔ لیکن جو جج اس پر بات کرے اسے دبایا جاتا ہے۔ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔
توشہ خانہ کیس پر بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے اسے ”بوگس کیس“ قرار دیا۔ اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف الزام صرف یہ ہے کہ مبینہ طور پر ہار کی قیمت کم لگوائی گئی۔ اور اسی بنیاد پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے توشہ خانہ کیس کے سوالات کا جواب آج تک نہیں دیا جا سکا۔ اور پاکستان میں قانون کا مذاق بنا دیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی ڈھائی سال سے جیل میں ہیں۔ اور انہیں ملک سے باہر جانے کی پیشکش بھی ملتی رہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ کہا کہ وہ اپنے مقدمات کا سامنا کریں گے۔
علیمہ خان نے کہا کہ جو ججز غلط فیصلے دے رہے ہیں وہ باہر جانے کی تیاری میں ہیں۔ لیکن ہم ان کے نام یاد رکھیں گے۔ انہوں نے بعض اے ٹی سی ججز کے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات کا سرکاری ٹی وی میں مالی کو پروڈیوسر لگائے جانے کا انکشاف
علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام میڈیا کو دیا تھا۔ اور ہم میڈیا کے نمائندوں کو بطور گواہ پیش کریں گے۔ عمران خان کو 11 کتابیں بھیجی گئیں جن میں سے 9 موصول ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کی قیادت کو اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام بھیجا ہے۔ اور عمران خان 90 فیصد قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
