آسٹریلیا کی پولیس نے عدالت کو بتایا ہے کہ بونڈی بیچ میں تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ سے قبل حملہ آوروں نے گھریلو ساختہ بم بھی ہجوم پر پھینکے تھے، تاہم خوش قسمتی سے وہ پھٹ نہ سکے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 14 دسمبر کو بانڈی بیچ پارک میں ہونے والے حملے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے بعد اسلحہ قوانین مزید سخت کرنے اور یہود دشمنی کے خلاف اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ان کے ہاتھوں مارے جانے والے مبینہ حملہ آور ساجد اکرم کے پاس چھ ہتھیار تھے۔ اس کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم پر قتل اور دہشت گردی سمیت 59 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس فیکٹ شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ باپ بیٹے نے حملے کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل کی تھی اور واردات سے دو روز پہلے بونڈی کے ساحلی پارک کی ریکی بھی کی گئی تھی۔
پولیس رپورٹ میں شامل تصاویر کے مطابق دونوں افراد نیو ساؤتھ ویلز کے ایک دور دراز علاقے میں اسلحے کی مشق کرتے رہے۔ پولیس کو اکتوبر میں بنائی گئی ایک ویڈیو بھی ملی جس میں دونوں ایک شدت پسند تنظیم کے جھنڈے کے سامنے بیٹھے حملے کے اسباب بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پولیس کے مطابق حملے کے روز صبح کے وقت سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں افراد کو کمبل میں لپٹی ہوئی بھاری اشیاء گاڑی میں رکھتے دیکھا گیا، جن میں شاٹ گنز، رائفل، پائپ بم، ٹینس بال بم اور ایک بڑا دیسی ساختہ دھماکا خیز آلہ شامل تھا۔
عدالتی بیان کے مطابق فائرنگ سے قبل حملہ آوروں نے پائپ بم اور ٹینس بال بم ہجوم پر پھینکے، تاہم وہ پھٹنے میں ناکام رہے۔
بعد ازاں پولیس نے کرائے کے مکان سے بم بنانے کا سامان اور تھری ڈی پرنٹ شدہ اسلحے کے پرزے بھی برآمد کیے۔
واقعے کے بعد نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمان کو ہنگامی طور پر طلب کیا گیا، جہاں اسلحہ رکھنے پر سخت پابندیوں، دہشت گردی کی علامتوں پر پابندی اور احتجاجی اجتماعات سے متعلق نئے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔
