سابق وزیرِاعظم عمران خان (imran khan)کی گرفتاری کو دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران جیل میں ان کے مبینہ حالاتِ قید مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ نے حال ہی میں عمران خان کی قید کو ’’غیر انسانی‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا ہے۔
ان حالات میں عمران خان کے صاحبزادوں، سلیمان خان اور قاسم خان، لندن میں صحافی مہدی حسن کے پروگرام میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے اپنے والد کی فوری رہائی کے لیے آواز بلند کی۔ قاسم خان نے انکشاف کیا کہ ان کے والد کو مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
View this post on Instagram
قاسم کے مطابق، ’’انہیں اس حد تک الگ تھلگ کر دیا گیا ہے کہ جیل کے اہلکاروں کو بھی ان سے بات کرنے کی اجازت نہیں۔ مقصد صرف انہیں توڑنا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ تین ماہ قبل صرف چھ منٹ کی فون کال پر والد سے بات ہو سکی تھی، جبکہ تین برس سے ان کی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ قاسم نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو ایک چھوٹے سے 6 فٹ 8 انچ کے سیل میں رکھا گیا ہے، جہاں کھڑا ہونا بھی مشکل ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کا جنوری میں پاکستان آنے کا اعلان
انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے کئی حساس معاملات پر بات کی، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی کردار کی امید رکھتے تھے، مگر پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ان کے قریبی تعلقات نے انہیں مایوس کیا۔
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ عدالتی حکم کے باوجود حکومتِ پاکستان نے ان کے والد سے فون کالز بند کر دی ہیں، جبکہ برطانوی حکومت نے انہیں پاکستان جانے پر سکیورٹی فراہم نہ کرنے کی وارننگ دی ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا ، عمران خان کی بہنوں سمیت 400 افراد کیخلاف مقدمہ
دوسری جانب وزیرِاعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کسی سیل میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں علیحدہ رہائشی سہولیات، جم، لان، کتابیں اور ذاتی باورچی تک میسر ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان دن میں کم از کم چھ گھنٹے کھلے ماحول میں گزارتے ہیں اور ہر کھانے کی طبی جانچ کی جاتی ہے۔
مشرف زیدی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے بچوں کو پاکستان میں قانون کے مطابق تمام حقوق حاصل ہوں گے، تاہم کسی بھی ممکنہ دورے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
