واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں اسرائیل اور یہودی لابی کے کم ہوتے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی کانگریس میں یہودی مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں یہودیوں کے مذہبی تہوار حانوکا کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر 10، 12 یا 15 سال پہلے کی بات کی جائے تو واشنگٹن میں سب سے طاقتور لابی یہودی یا اسرائیل کی حامی لابی تھی۔ مگر اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ اثر و رسوخ پہلے جیسا نہیں رہا۔ اور یہودی برادری کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی کانگریس میں یہودی مخالف رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ اور یہ تبدیلی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کانگریس اراکین الہان عمر اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا نام لے کر کہا کہ یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند برس قبل یہ تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ لیکن اب یہودی مخالف جذبات نہ صرف موجود ہیں۔ بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے آسٹریلیا میں حانوکا کے موقع پر ہونے والے حملے اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 7 اکتوبر کے حملوں کی ویڈیوز خود دیکھی ہیں۔ اور وہ مناظر ناقابل بیان حد تک خوفناک تھے۔ اس کے باوجود بعض لوگ ان واقعات کو جھوٹ یا جعلی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو انتہائی افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 35 سال بعد عراق میں یورپی پروازیں دوبارہ بحال
امریکی صدر نے یہودی برادری کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حالات جتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں۔ جب تک وہ صدر ہیں امریکا میں یہودیوں یا اسرائیل کے خلاف نفرت کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔
