صبح کا صحت مند اور متوازن ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کو رات بھر کے وقفے کے بعد توانائی فراہم کرتا ہے اور دن بھر کی سرگرمیوں کے لیے میٹابولزم کو متحرک رکھتا ہے۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک صحت مند اور متوازن ناشتہ نہ صرف جسمانی توانائی بڑھاتا ہے بلکہ دماغ کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے، بھوک کو قابو میں رکھتا ہے اور وزن کے کنٹرول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
بیٹھ کر پانی پینا سنت؛ سائنس نے اس کے فوائد بھی بتادیے
تاہم، 40 سال کے بعد اگر ناشتے میں مناسب غذائی اجزاء شامل نہ ہوں یا ناشتہ مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے تو اس کے منفی اثرات جسمانی وزن اور مجموعی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
وزن بڑھا دینے والی ناشتے کی عام غلطیاں
مناسب مقدار (پورشن) کا خیال نہ رکھنا
ناشتے میں زیادہ مقدار میں کھانا وزن بڑھنے کا اہم سبب ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر کھانے کی مناسب مقدار کے مطابق ناشتا کرنا چاہیے، محض اندازے یا عادت کے مطابق نہیں۔
زائد شکر کا استعمال
پیسٹریز، شیریلز یا میٹھے مشروبات ناشتہ کے دوران بہت زیادہ شکر فراہم کرتے ہیں۔ یہ فوری توانائی تو دیتے ہیں لیکن جلد ختم ہو جاتی ہے، جس سے دوبارہ بھوک لگتی ہے اور اضافی کھانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
پروٹین کی کمی
ناشتے میں پروٹین کم شامل کرنے سے پیٹ جلد خالی ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے دن بھر بھوک اور اضافی کیلوریز لینے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ انڈے، دہی، دالیں یا پروٹین شیک شامل کرنا مفید ہے۔
ملک بھر میں کل سے رواں سال کی آخری پولیو مہم کا آغاز ہو گا
فائبر کی کمی
فائبر وزن کنٹرول میں مدد دیتا ہے اور پیٹ دیر تک بھرا رکھتا ہے۔ ناشتے میں اوٹمیل، سبزیوں والا آملیٹ یا پھل شامل کرنے سے وزن بڑھنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ناشتہ چھوڑ دینا
کچھ لوگ وزن کم کرنے کے لیے ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ عادت میٹابولزم سست کر دیتی ہے اور موٹاپے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ مناسب ناشتہ کرنے سے توانائی برقرار رہتی ہے اور دن بھر صحت مند کھانے کے انتخاب میں آسانی ہوتی ہے۔
