راولپنڈی: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ورزش کرتے تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ علیمہ خان نے وائرل تصویر کی تصدیق کر دی۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی عمران خان کی وزرش کرتے تصویر بالکل حقیقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار تصویر دیکھی تو انہوں نے بھی یہ جانچنے کے لیے کسی کو بھیجی کہ کہیں یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ تو نہیں۔ کیونکہ تصویر میں عمران خان بالکل ویسے ہی نظر آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ عمران خان ہی ہیں اور تصویر غالباً موسمِ گرما کی ہے۔ اسی حالت میں وہ جیل میں ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کو اکیلے سیل میں رکھا گیا ہے۔ تاہم وہ قید کے باوجود ورزش کو ترک نہیں کرتے۔ عمران خان نے زندگی میں دو چیزیں کبھی نہیں چھوڑیں۔ ایک اللہ پر ایمان اور دوسری ورزش۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ان کا آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بلکہ بعض اوقات بدسلوکی بھی کی جاتی ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ جو جج آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم نہیں کر سکتے۔ انہیں اپنے عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔
علیمہ خان نے پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’علیمہ خان گروپ‘‘ یا ’’بشریٰ بی بی گروپ‘‘ جیسی باتیں محض پروپیگنڈا ہیں۔ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والا ہر شخص ان کی ٹیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کسی بھی صورت تین نکات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جن میں آئین کی بالادستی، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، اور شفاف انتخابات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی
علیمہ خان نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی شخص کو پانچ دن سے زیادہ اکیلے سیل میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے۔ اور وہ منگل کو ایک بار پھر ملاقات کے لیے رجوع کریں گی۔
