یوٹیوب پر پاکستانی تخلیقی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مقامی یوٹیوبرز عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ جیسے ہی 2026ء کا آغاز ہو رہا ہے، پاکستانی مواد نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی ناظرین میں بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025ء میں 95,000 سے زائد پاکستانی چینلوں نے 10,000 سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کیا ہے، جبکہ 13,000 سے زیادہ چینل ایسے تھے جن کے ناظرین کی تعداد 100,000 سبسکرائبرز سے تجاوز کر گئی۔ اس عروج پر، 1,000 سے زیادہ پاکستانی چینلوں نے ایک ملین سبسکرائبرز کا قابلِ قدر ہدف بھی عبور کیا جو عالمی سطح پر پاکستانی مواد کے معیار، صداقت اورمقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
جوئے کی پروموشن کیس، رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانتیں منظور
سب سے زیادہ متاثر کن پہلو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی ہے، جہاں پاکستانی مواد کے مجموعی واچ ٹائم کا 60 فیصد سے زائد حصہ بیرونِ ملک ناظرین پر مشتمل ہے۔ کراچی سے کوالالمپور، لاہور سے لندن تک، پاکستانی تخلیق کار ثقافت، تفریح اور مشترکہ انسانی تجربات کے ایسے پل قائم کر رہے ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہیں۔
گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بزنس و آپریشنزفرحان قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی یوٹیوبرز کی طرف سے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف مقامی ناظرین کے لیے مواد تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ ایسی کہانیاں، نقطۂ نظر اور تفریح تخلیق کر رہے ہیں جو براعظموں کے پار لوگوں کے دلوں کو چھو رہی ہیں، اور ازسرِنو تعریف متعین کر رہی ہیں کہ عالمی مواد تخلیق کار ہونے کا مطلب کیا ہے۔
فرحان قریشی نے کہا کہ اس کا اثر صرف ویوز اور سبسکرائبرز تک محدود نہیں بلکہ یہ تخلیق کار پائیدار کاروبار قائم کر رہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں بامعنی کردار ادا کر رہے ہیں، یہ ایسی تخلیقی صلاحیت ہے جو ثقافتی اور معاشی دونوں حوالوں سے حقیقی ثمرات فراہم کر رہی ہے۔
متنوع مواد ،تخلیقی صلاحیت اور تخلیق کاروں کے نظام کی نمو میں پیش رفت
پاکستان سے پیش کیا جانے والا متنوع مواد ملک کی شاندار ثقافتی بُنت کی عکاسی کرتا ہے۔ تخلیق کار سنسنی خیز ڈراموں اور کھانے پکانے کی مہم جوئی سے لے کر بصیرت افروز پوڈکاسٹس، فیشن ، طرزِ زندگی کے مواد، تعلیمی وضاحتوں، دستاویزی فلموں اور ٹیکنالوجی کے جائزوں تک سب کچھ تخلیق کر رہے ہیں۔
بھارتی فلم دھریندر کے مقابلے میں پاکستان کا اپنی فلم ریلیز کرنے کا اعلان ،نام بھی سامنے آگیا
کنیکٹڈ ٹی وی (Connected TV) کےناظرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ، معروف تخلیق کار اب طویل، اعلیٰ معیار کی پروڈکشن پر مبنی سلسلہ وار مواد تخلیق کر رہے ہیں جو روایتی ٹیلی ویژن کا مقابلہ کرتا ہے۔ شاہویر جعفری کا ”مافیا“ گیم شو یوٹیوب پر سنیما جیسی پروڈکشن ویلیوز پیش کرتا ہے، جبکہ رانا حمزہ سیف کے ایک گھنٹے پر مشتمل فوڈ ریویوز اور چیلنجوں نے اس صنف کو نئی تعریف دی ہے۔ ”سم تھنگ ہاٹ( (Something Hauteکا ہفتے میں تین بار نشر ہونے والا ڈرامہ ریویو شو ایک مستقل ناظرین کا حلقہ بنا چکا ہے، اور ”وائلڈ لینز بائے ابرار(WildLens by Arbrar) کی ٹریول سیریز جو اب اپنے شاندار نویں سیزن میں ہے دستاویزی سطح کی سینماٹوگرافی کے ساتھ دنیا کو دریافت کر رہا ہے۔
پاکستانی یوٹیوبرز مخصوص دلچسپیوں اور شوق پر مبنی خصوصی مواد کے شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ ہمنہ کا گرام (Hamna’s Gram) خواتین کے کپڑوں کی دکانوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے، جو صارفین کی رہنمائی میں ایک خُلا کو پُر کرتا ہے۔ ”زلمی“ اپنے تخلیقی چیلنجوں کے ذریعے ناظرین کو مسحور کرتا ہے، جبکہ ”گلو اپ ود ماہ نور“ فیشن اور بیوٹی کے شائقین کے لیے ایک پسندیدہ مقام بن چکا ہے۔ ”پاک ویلز“ نے یوٹیوب پر پاکستان کی سب سے بڑی آٹوموٹو کمیونٹی قائم کی ہے، جو گاڑیوں کے تفصیلی جائزوں سے لے کر کاروں کے تقابلی جائزوں اور صنعت کی انسائٹس تک سب کچھ فراہم کرتی ہے۔ ”عدیل ولاگز(Adeel Vlogs) ٹیپ بال کرکٹ کی محبوب دنیا کو محفوظ کرتا ہے، جو ایک منفرد پاکستانی جذبے کی تعریف کرتا ہے۔
تعلیمی مواد یا ’ایجوٹینمنٹ (edutainment) نمایاں طور پر عمدہ ترقی کا تجربہ کر رہا ہے۔ مینوکٹوپس(Minoqtopus) سوچ بچار پر مبنی ویڈیو مضامین تخلیق کرتا ہے جو پیچیدہ موضوعات کو آسان بناتے ہیں، “پاکستان اینڈ کاؤنٹنگ ملک کو تشکیل دینے والے کاروباری اور معاشی مسائل کا جائزہ لیتا ہے، مشعل خان عام پاکستانیوں کے لیے مالی خواندگی کو آسان بناتی ہیں، اور مزمل حسن کا ”تھاٹ بی ہائنڈ تھنگز(Thought Behind Things) گہرائی میں جانے والے انٹرویوز پیش کرتا ہے اور بامعنی گفتگو کو جنم دیتے ہیں۔
یوٹیوب پر پاکستانی مواد کا یہ دھماکہ محض تفریح نہیں بلکہ معاشی بااختیاری، ثقافتی تبادلہ اور تخلیقی کاروبار کا امتزاج بھی ہے جو ایک متحرک پلیٹ فارم میں سمٹ آیا ہے۔ پاکستانی یوٹیوبرز اپنے شوق کو پیشوں میں بدل رہے ہیں، اپنے ناظرین کی برادریاںشکیل دے رہے ہیں، اور اپنے مواد کو پاکستان اور دنیا کے درمیان ایک پل تعمیر کر رہے ہیں۔
لکس اسٹائل ایوارڈز 2025 میں ہم ٹی وی نیٹ ورک کی صدر سلطانہ صدیقی نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا
پاکستانی یوٹیوب کمیونٹی کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے، روزانہ نئے چینل متعارف ہو رہے ہیں اور معروف تخلیق کار تخلیقی حدود کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستانی مواد یہ ثابت کر رہا ہے کہ بہترین کہانی سنانے کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور یہ کہ حقیقی آوازیں دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنا ناظرین تلاش کر سکتی ہیں۔
