امریکا میں ڈیموکریٹک قانون سازوں نے جنسی جرائم میں سزا یافتہ ارب پتی جیفری ایپسٹین کے اثاثوں سے حاصل کی گئی تصاویر کا ایک نیا مجموعہ جاری کر دیا ہے۔
نئی تصاویر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر بل کلنٹن سمیت دنیا کے کئی طاقتور شخصیات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
واشنگٹن میں ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ ارکان کے مطابق یہ تصاویر ایپسٹین اور دنیا کے طاقتور ترین افراد کے درمیان تعلقات پر مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
جاری کی گئی تصاویر میں ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن، سابق امریکی وزیرِ خزانہ لیری سمرز، فلم ڈائریکٹر ووڈی ایلن، برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر، مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور ورجن گروپ کے سربراہ رچرڈ برانسن بھی نظر آتے ہیں۔
اگرچہ ان تصاویر پر تاریخ درج نہیں اور ان میں کسی غیر قانونی سرگرمی کے واضح شواہد موجود نہیں، تاہم ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ مناظر جیفری ایپسٹین کے بااثر حلقوں تک رسوخ سے متعلق مزید تشویش پیدا کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے تصاویر کے اجرا کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ڈیموکریٹس نے منتخب تصاویر جاری کر کے ایک جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن کے مطابق صدر ٹرمپ کے خلاف الزامات پہلے ہی غلط ثابت ہو چکے ہیں۔

جاری کی گئی 19 تصاویر میں سے تین میں ڈونلڈ ٹرمپ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تصویر میں وہ ہار پہنائے جانے والی خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے چہرے دھندلا دیے گئے ہیں، دوسری میں وہ ایپسٹین کے ساتھ ایک نامعلوم خاتون سے گفتگو کر رہے ہیں، جبکہ تیسری تصویر میں وہ ایک خاتون کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں جن کا چہرہ چھپایا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تصاویر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ تصاویر نہیں دیکھیں اور ان کے اجرا کو غیر اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپسٹین پام بیچ میں ہر کسی سے ملتا تھا اور سینکڑوں افراد کے پاس اس کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔
بل کلنٹن کی تصاویر میں ایپسٹین کے ساتھ گھسلین میکسویل بھی نظر آتی ہیں، جو نابالغ لڑکی کی اسمگلنگ سمیت دیگر جرائم میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2008 میں نابالغ لڑکیوں سے جنسی تعلقات کے جرم میں سزا یافتہ تھا اور 2019 میں نیویارک میں بچوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار ہوا، تاہم وہ مقدمے سے قبل جیل میں مردہ پایا گیا، جسے خودکشی قرار دیا گیا۔
امریکی کانگریس نے محکمہ انصاف کو ہدایت کی ہے کہ ایپسٹین کیس سے متعلق تمام فائلیں 19 دسمبر تک جاری کی جائیں۔ صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ان فائلوں کی اشاعت کی مخالفت کی، تاہم کانگریس کے دباؤ پر انہیں اس قانون پر دستخط کرنا پڑے۔
