سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بالی ووڈ کی متوقع فلم دھریندر میں اپنے شوہر کے کردار کی ممکنہ منفی عکاسی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فلم سازوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے نورین اسلم نے کہا کہ فلم میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو شامل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف میرے شوہر کی خدمات کی غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
خلیجی ممالک میں بھارتی فلم ‘‘دھریندر’’ پر مکمل پابندی
نورین نے سوال اٹھایا کہ فلم میں لیاری کے علاقے کو کیوں منتخب کیا گیا اور رحمان ڈکیت کے کردار کو کیوں بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق اصل میں چوہدری اسلم نے خطرناک دہشت گردوں کے خلاف اپنی زندگی وقف کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے منفی مناظرات اور پروپیگنڈا شہید افسر کی یاد اور خدمات کے منافی ہیں، اگر میرے شوہر کے کردار کے بارے میں کوئی غلط بیانیہ یا منفی پہلو شامل کیا گیا، تو میں عالمی قوانین کے تحت فلم کے ڈائریکٹرز اور اسکرین رائٹرز کے خلاف کارروائی کروں گی۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری اسلم کی بہادری اور وطن کے لیے خدمات کو پوری دنیا میں سراہا جاتا ہے، فلم کے ذریعے اسے غلط تناظر میں پیش کرنا ناقابل قبول ہے۔
واضح رہے کہ دھریندر بالی ووڈ کی ایک متوقع فلم ہے جس میں سنجے دت، رنویر سنگھ اور دیگر اداکار مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے۔ یہ فلم 5 دسمبر 2025 کو ریلیز ہوئی اور اسے کچھ حلقوں کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔
رنویر سنگھ کی فلم دھریندر ریلیز، سرحد کے دونوں جانب ناظرین میں اختلافِ رائے جاری
فلم اب تک بھارت میں 6 دنوں کے دوران 188.60 کروڑ جبکہ بیرونِ ملک 4 دنوں میں 44.08 کروڑ کمائے ہیں۔ تاہم خلیجی ممالک میں پابندی کے باعث فلم کی ممکنہ کمائی کو نمایاں نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ خطہ بالی ووڈ فلموں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔
