راولپنڈی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید ایک ادارے کے ملازم تھے اگر کسی معاملے پرانہیں سزا ہوئی ہے تو یہ متعلقہ ادارے کا اندرونی مسئلہ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اس معاملے سے سیاسی رنگ دینے کے بجائے اسے قانونی تقاضوں کے مطابق ہی دیکھا جانا چاہیے، بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کیلئے آئے، تاہم انہیں اندر جانے کی اجازت نہ ملی، بانی پی ٹی آئی پاکستان اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر فیصلہ ساز سمجھتے ہیں تو ہمارے ساتھ مذاکرات کریں کیونکہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا ہے اور ہم ہر فیصلے میں محمود خان اچکزئی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ کو عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات سے روکنا غیر آئینی ہے، پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ پنجاب حکومت کے احکامات پر کیا گیا۔
فیض حمید کی سزا ابتدا ،9 مئی کے کیسز باقی ، سہولت کاروں کو بھی نہیں چھوڑا جائیگا ، فیصل واوڈا
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے جبکہ ملک پر ایسے لوگ مسلط ہیں جن کا ریکارڈ خود ان کے بقول “تصدیق شدہ چوروں” کا ہے، ہماری حکومت آئے گی تو سب کا حساب لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کی کارکردگی صفر ہے، ملک میں معاشی تباہی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ نوجوان پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
