بلغاریہ میں ایک بڑی سیاسی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں وزیر اعظم روزن ژیلیازکوف(Rosen Zhelyazkov) نے اپنی کابینہ سمیت عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے BGNES کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی چھٹی عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری شروع ہونے ہی والی تھی۔
یوکرینی صدر نے یوکرین روس جنگ ختم ہونے کا اشارہ دے دیا
عدم اعتماد کا ووٹ مقامی وقت کے مطابق 1 بج کر 30 منٹ پر ہونا تھا، تاہم There Is Such a People پارٹی کی رکن پاویلا میٹووا نے اپنی جماعت کی جانب سے 30 منٹ کا وقفہ طلب کرلیا۔ اس دوران وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان اسمبلی میں موجود نہیں تھے۔ حکمران جماعت GERB-SDS کے سربراہ بویکو بورسوف اور دیگر اہم رہنما بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔
وزیر اعظم ژیلیازکوف نے استعفیٰ کے اعلان میں کہا کہ اگرچہ انہیں یقین تھا کہ حکومت کو عدم اعتماد ووٹ میں حمایت مل جائے گی، لیکن “حکومت کا وجود عوامی اعتماد سے ہے، اور جب عوام سڑکوں پر نکل آئیں تو ان کی آواز سننا سب سے پہلے ہماری ذمہ داری ہے۔” انہوں نے کہا کہ “ہم عوام کی آواز سنتے ہیں، ان کے مطالبات واضح ہیں—حکومت کا استعفیٰ۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں نوجوانوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ہوئی، جو ظاہر کرتا ہے کہ عوام کی ناراضی رویوں اور طرز حکمرانی سے ہے، نہ کہ صرف پالیسیوں سے۔ ژیلیازکوف کا کہنا تھا کہ ان کی مخلوط حکومت نے چیلنجنگ حالات کے باوجود بلغاریہ کو اس کی یورپی سمت پر گامزن رکھا اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو بڑا دھچکا
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے اگلے سال کا بجٹ منظور کرلیا ہے، جو عوامی فلاح اور قوتِ خرید بڑھانے پر مبنی ہے۔ تاہم اپوزیشن اس مؤقف سے متفق نہیں تھی۔
اس سے قبل بھی ژیلیازکوف کابینہ نے ستمبر میں پانچویں عدم اعتماد تحریک کا سامنا کیا تھا، جس میں حکومت نے 133 ووٹوں کی حمایت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن اس بار عوامی دباؤ، سیاسی انتشار اور بڑھتے احتجاج نے صورتحال کو بدل دیا۔
اب نگراں حکومت کی تشکیل اور 2026 کے انتخابات تک ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔
