جب آپ بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں تو اکثر کرنسی تبدیل کروانے کے بعد اتنے زیادہ نوٹ ہاتھ میں آ جاتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے اچانک دولت بڑھ گئی ہو۔ لیکن جیسے ہی خرچ شروع کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نوٹ زیادہ چلتے نہیں۔
تب سمجھ آتی ہے کہ کسی کرنسی کی اصل قدر کیا ہے۔ کمزور کرنسیاں عام طور پر مضبوط کرنسیوں کے مقابلے میں بہت کم خریداری کی طاقت رکھتی ہیں۔
کئی کرنسیوں کی قیمت مہنگائی، غیر مستحکم معیشت اور سست معاشی ترقی کی وجہ سے کم ہوتی ہے۔ آج کے ایکسچینج ریٹس کی بنیاد پر دنیا کی آٹھ کمزور ترین کرنسیوں اور ان کی کمزوری کی وجوہات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
نوٹ: درج ذیل تمام ایکسچینج ریٹس آج کے دستیاب ریٹس کے مطابق ہیں، جو مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔
لبنانی پاؤنڈ – 89,583.31 LBP
لبنانی پاؤنڈ کی قدر حالیہ برسوں میں ریکارڈ حد تک گر چکی ہے، جس کی وجہ سیاسی عدم استحکام، شدید مہنگائی اور طویل مالی بحران ہے۔ اس کی خریداری کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے۔ ملک میں آج بھی سرکاری اور مارکیٹ ریٹ میں واضح فرق موجود ہے۔ غیر ملکی کرنسی رکھنے والے مسافروں کو رقم زیادہ محسوس ہوتی ہے، لیکن مقامی افراد کے لیے روزمرہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی کرنسی بدترین دباؤ کا شکار، ڈالر 12 لاکھ 50 ہزار کا ہو گیا
ایرانی ریال – 42,125 IRR
ایرانی ریال کئی برسوں سے قدر میں کمی کا شکار ہے۔ اقتصادی پابندیوں، بلند مہنگائی اور عالمی تجارت میں کمی نے اس کرنسی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ مضبوط کرنسی تبدیل کرنے والے مسافروں کو رقم زیادہ لگتی ہے، مگر مقامی شہری بڑھتی قیمتوں اور کم ہوتے حقیقی آمدن سے دوچار ہیں۔
ویتنامی ڈونگ – 26,372.50 VND
ویتنامی ڈونگ طویل عرصے سے دنیا کی کمزور ترین کرنسیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ ویتنام کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے، لیکن برآمدات کو بڑھانے کی پالیسیوں کے باعث ڈونگ کی قدر کم رکھی جاتی ہے۔ تھوڑی سی رقم تبدیل کرنے پر بھی مسافروں کو نوٹوں کے بڑے بنڈل مل جاتے ہیں۔ اس کے باوجود رہائش، کھانے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اب بھی مناسب ہیں۔
لاؤشیائی کِپ – 21,693.42 LAK
لاؤشیائی کِپ کسی بڑی کرنسی کے ساتھ منسلک نہ ہونے کے باعث زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔ ملک کا بھاری قرضہ، کمزور معاشی ترقی اور محدود برآمدات اس کی کمزوری کی اہم وجوہات ہیں۔ لاؤس اپنی خوبصورتی کے باعث مشہور ہے، لیکن کمزور کرنسی کے باعث مسافروں کو روزمرہ خریداری کے لیے بڑے نوٹوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
انڈونیشیائی روپیہ – 16,689 IDR
تیزی سے بڑھتی معیشت کا حصہ ہونے کے باوجود انڈونیشیائی روپیہ مسلسل کمزور رہتا ہے۔ اس کی وجوہات میں بلند مہنگائی، درآمدات پر انحصار اور وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی معاشی بے یقینی شامل ہیں۔ ملک کی بڑی آبادی اور ترقی پاتی انفراسٹرکچر بھی مالی دباؤ بڑھاتے ہیں۔ مسافروں کے لیے روزمرہ اخراجات مناسب ہوتے ہیں، لیکن لین دین اکثر بڑے اعداد والے نوٹوں میں ہوتا ہے۔
