امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہریت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم اعلان کرتے ہوئے 10 لاکھ ڈالر کے ’گولڈ کارڈ‘ کا باقاعدہ اجراء کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ’گولڈ کارڈ‘ 10 لاکھ ڈالر ادا کرنے والے افراد اور غیر ملکی ملازمین کے لیے فی کارکن 20 لاکھ ڈالر دینے والی کمپنیوں کو قانونی حیثیت اور امریکی شہریت فراہم کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر گرین کارڈ کی طرح ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ طاقتور اور مؤثر راستہ ہے جو مستقل قانونی رہائش اور بعد ازاں امریکی شہریت کے مواقع فراہم کرے گا۔
گولڈ کارڈ کی درخواستیں قبول کرنے والی ویب سائٹ گزشتہ روز فعال ہوئی، جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے روزویلٹ روم میں کاروباری رہنماؤں کے درمیان اس پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا۔
بحرین نے گولڈن ویزا کے لئے قواعد میں نرمی کا اعلان کر دیا
یہ اسکیم EB-5 ویزا پروگرام کی جگہ لے گی، جو 1990 میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کے تحت وہ افراد جنہوں نے تقریباً 10 لاکھ ڈالر کسی کمپنی میں خرچ کیے جو کم از کم 10 افراد کو ملازمت فراہم کرے، امریکی قانونی رہائش اور شہریت کے اہل ہوتے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اس نئے ویزا پروگرام کو امریکا کے لیے بہترین غیر ملکی ٹیلنٹ کو متوجہ اور برقرار رکھنے کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ یہ وفاقی خزانے کے لیے بھی بڑی آمدنی کا ذریعہ ہوگا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ’گولڈ کارڈ‘ پروگرام کی قیمت کے حوالے سے مختلف امکانات زیر غور تھے، جنہیں بعد میں 10 لاکھ اور 20 لاکھ ڈالر کی قیمتوں میں حتمی شکل دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والی تمام رقم امریکی حکومت کے پاس جائے گی اور اربوں ڈالر خزانے میں جمع کر کے ملک کے مفاد میں استعمال کی جا سکیں گے۔
