مکئی دنیا بھر میں ایک قدیم اور مقبول اناج ہے، جو اپنے غذائیتی فوائد کی وجہ سے کئی ملکوں کی خوراک کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف فائبر، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہے بلکہ اینٹی آکسیڈینٹس بھی فراہم کرتا ہے، جو جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور بیماریوں سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین غذائیت کے مطابق مکئی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یکسر نقصان دہ غذا نہیں، بلکہ مناسب مقدار اور درست طریقے سے استعمال کیے جانے پر یہ خوراک کا صحت بخش حصہ بن سکتی ہے۔
خالی پیٹ پھل کھانا فائدہ مند یا نقصان دہ؟
ذیابیطس مریضوں کے لیے غذا میں مکئی شامل کرنے کے آسان طریقے
1۔ گرِلڈ مکئی
مکئی کے بھٹے کو گرِل یا اُبال کر استعمال کریں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے اس پر لیموں کا رس نچوڑیں اور ہلکی سی جڑی بوٹیاں چھڑک دیں۔
2۔ سلاد اور اسٹر فرائے
تازہ مکئی کے دانے سلاد، اسٹر فرائے یا ہلکی تلی ہوئی سبزیوں میں شامل کریں۔ اس کے ساتھ چکن یا مچھلی جیسے کم چکنائی والے پروٹین شامل کر کے غذا کو مزید صحت بخش بنایا جا سکتا ہے۔
3۔ سوپ اور اسٹو
مکئی کو سوپ یا اسٹو کی بنیاد کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے سبزیوں، پھلیوں اور کم چکنائی والے پروٹین کے ساتھ پکایا جائے تو یہ ایک بھرپور اور غذائیت سے بھرپور کھانا بن جاتا ہے۔ اگر پکانے کا موڈ نہ ہو، تو آن لائن کارن سوپ بھی منگوایا جا سکتا ہے۔
4۔ روسٹڈ مکئی اور سبزیوں کا امتزاج
مکئی کو شملہ مرچ، زُکینی اور گاجر جیسی سبزیوں کے ساتھ روسٹ کر کے بھی کھایا جا سکتا ہے۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے جڑی بوٹیوں اور مصالحوں سے مناسب طریقے سے سیزننگ ضرور کریں۔
جگر کی صحت اور شوگر کنٹرول کرنے کیلئے 5 مفید مشروبات
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پروسس شدہ یا میٹھے کارن کے پکوان خون میں شکر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ان سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ فائبر کی زیادہ مقدار کے باعث مکئی چاول کے مقابلے میں بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ دیرپا توانائی فراہم کرتی ہے اور گلیسیمک لوڈ نسبتا کم ہوتا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ذیابیطس کے مریض اپنی روزمرہ غذا میں مکئی شامل کرنے سے پہلے مقدار اور استعمال کے طریقے پر خصوصی توجہ دیں اور معالج کے مشورے کو ترجیح دیں۔
