لاہور میں بسنت کے تہوار کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور بسنت کی تقریبات 7، 8 اور 9 فروری کو منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پنجاب بھر میں بسنت سے قبل پتنگ بازی کو محفوظ اور منظم بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رجسٹریشن اور فارم کا نظام
پتنگ سازوں، ڈور بنانے والوں، فروخت کنندگان اور کیٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے چار کیٹیگریز کے فارم جاری کیے گئے ہیں:
فارم اے: پتنگ سازوں اور ڈور بنانے والوں کے لیے
فارم بی: رجسٹرڈ افراد کو جاری ہونے والا سرکاری سرٹیفکیٹ، جس پر کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ یہ کیو آر کوڈ پتنگ، ڈور اور دکانوں پر بھی لگایا جائے گا اور فارم بی سرٹیفکیٹ دکان کے اندر نمایاں جگہ پر رکھنا لازمی ہوگا۔
فارم سی اور فارم ڈی: کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے لیے مختص۔
پتنگ اور ڈور کی شرائط
پتنگ کا سائز 40 انچ سے زائد نہیں ہوگا۔
گڈا 30 انچ سے زیادہ چوڑائی کا نہیں ہوگا۔
ڈور صرف کاٹن کے دھاگے سے بنے گا اور اس میں نو سے زائد تاریں نہیں ہوں گی۔
مانجا میں گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشے کا استعمال کیا جا سکے گا۔
ڈور کے لیے صرف پنے کی اجازت ہوگی، چرخی استعمال نہیں کی جا سکے گی۔
تیز مانجا، تندی، دھاتی تار اور کیمیکل کا استعمال ممنوع ہوگا۔
پنجاب حکومت نے پتنگ بازی کی اجازت دینے کا قانون جاری کر دیا
انتظامی اقدامات
پتنگ اور ڈور کے سائز، میٹریل اور معیار کو شیڈول ون کے مطابق سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
رجسٹرڈ ایسوسی ایشنز ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں بسنت کے انتظامات میں معاونت کریں گی۔ ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف رجسٹریشن منسوخی اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
