وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)کا کہنا ہے کہ ملک کے بہت سے اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت ہے ،آج ہمارا پورا نظام ہیلتھ کیئر نہیں بلکہ سک کیئر ہو گیا ہے،ہیلتھ کیئر انسان کو مریض بننے سے بچاتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پورا ایکو سسٹم مریض بنانے کی فیکٹری ہے ،25کروڑ کی آبادی ہے اور ہر سال 61 لاکھ 90 ہزار بچے پیدا ہو رہے ہیں ، ہم ہر سال ملک میں نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی شامل کر رہے ہیں۔بچوں کو ویکسین لگانے جائیں تو کہتے ہیں نہ لگاؤ آبادی کم ہو جائے گی۔
اگلے 2 ماہ میں جعلی اور مہنگی ادویات کی فروخت 99 فیصد بند ہو جائے گی ، مصطفیٰ کمال
68فیصد بیماریاں پانی کی وجہ سے ہیں ،اگر پانی صاف کر لیں تو بیماریوں میں 70 فیصد تک کمی آجائے گی ، گلگت بلتستان کا پہلا گھر اپنا سیوریج فلش کرتا ہے تو کسی کے پینے کے پانی میں جا ملتا ہے۔
اگلا محلہ جب سیوریج فلش کرتا ہے تو کسی اور کے پینے کے پانی میں ملتا ہے،ہم گلگت سے کراچی تک ایک دوسرے کا سیوریج پی رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف سرکاری نہیں پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی 4،4گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے ،جب سب بیمار ہونا شروع ہو جائیں گے تو ہر گلی کے کونے میں بھی اسپتال بنا لیں تو بھی کم ہونگے۔
