وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی خدمت سے سب آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے پشاور میں پی ٹی آئی جلسے میں پی ٹی آئی کا حال دیکھ لیا، پشاور جلسے میں کسی ترقیاتی منصوبے سے متعلق بات نہیں ہوئی، پشاور جلسے میں سوائے تنقید کے کچھ نہیں تھا۔
خطے میں علاقائی تعاون کے تناظر میں اقتصادی، ڈیجیٹل، عوامی رابطے کی اہمیت بڑھ چکی ہے، وزیراعظم
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے، محاورتاً کہی ہوئی باتیں پی ٹی آئی جلسے میں عملی طور پر ثابت ہوئیں، کسی کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار میں پہنچنے والے اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی شہدا کے بارے میں بات نہیں کی، معرکہ حق میں دشمن کو شکست دینے والی فوج کو نشانہ بنایا گیا، ریاستی اداروں پر الزام تراشی کی گئی، بانی ہی ٹی آئی نے کبھی بھارت کیخلاف کوئی بات نہیں کی، انہوں نے کبھی بھی اسرائیل کو برا نہیں کہا۔
طلال چودھری نے کہا کہ اس جماعت کا وتیرہ ہے کہ ریاستی اداروں پر تنقید کی جائے، کب تک ان کی باتوں اور تنقید کو نظر انداز کیا جائے، یہ اس لائق نہیں کہ ان کی کسی بات کا جواب دیا جائے، پی ٹی آئی کو بات چیت کی دعوت دینے پر آج شرمندگی ہو رہی ہے۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے کبھی خواتین کی عزت نہیں کی، پی ٹی آئی والے تعلیم کیلئے کیوں آواز نہیں اٹھاتے؟ ذہنی مریض کبھی بھی ملک کے حق میں بات نہیں کرے گا، ذہنی مریض سے کسی کو کوئی بھی فیض حاصل نہیں ہو گا۔
سزا یا فتہ قیدی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، رانا احسان افضل
انہوں نے کہا کہ کندھے نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بھی نہیں بن سکتے تھے، یہ لوگ اڈیالہ جیل میں قید دوسرے قیدیوں کیلئے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی پوری زندگی اسکینڈلز سے بھری ہوئی ہے، انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ہری پور کا الیکشن نہیں جیت سکتے وہ لاہور اور فیصل آباد میں کیا مقابلہ کریں گے۔
