امریکا سے بے دخل کیے گئے 172 غیر قانونی تارکین وطن کو لے جانے والا طیارہ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس پہنچ گیا۔
یہ پرواز ایسے وقت میں پہنچی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کی ایئر سپیس بند قرار دینے کا اعلان کر چکے تھے، اس کے باوجود وینزویلا نے ڈی پورٹیشن پروازوں کی دوبارہ اجازت دے دی۔
یہ طیارہ امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس سے روانہ ہوا تھا، یہ رواں ہفتے امریکا سے وینزویلا پہنچنے والی دوسری ڈی پورٹیشن پرواز ہے۔
اس پیش رفت کے دوران ہی کیریبین کے سمندری علاقوں میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا کے بائیں بازو کے صدر نکولس مدورو پر منشیات اسمگلنگ سے مبینہ روابط کے الزامات عائد کرتے ہوئے لاطینی امریکا میں فوجی قوت تعینات کی گئی ہے، جس میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے۔
امریکی افواج نے حالیہ مہینوں میں کیریبین اور بحرالکاہل میں 20 سے زائد حملے کیے ہیں، جن میں کم از کم 87 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے، تاہم ان کارروائیوں کو منشیات اسمگلنگ سے جوڑنے کے شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
صدر نکولس مدورو نے ان امریکی اقدامات کو اپنی حکومت کا تختہ الٹنے اور وینزویلا کے تیل کے بڑے ذخائر پر قبضے کی کوشش قرار دیا ہے۔
وینزویلا حکام کے مطابق کاراکاس پہنچنے والی اس پرواز میں 5 بچے، 26 خواتین اور 141 مرد شامل تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ’’وطن واپسی‘‘ پروگرام کے تحت 18 ہزار 260 وینزویلان شہری واپس لائے جا چکے ہیں، جن میں سے 14 ہزار سے زائد امریکا سے واپس بھیجے گئے۔
