اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ گزشتہ روز کرغزستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اور دوران دورہ کرغزستان کے صدر کی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دیگر شعبوں سے متعلق بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے 200 ملین ڈالر تک تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا۔ جبکہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان 120 تجارتی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ مصر کے وزیر خارجہ نے بھی گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا۔ اور دورے کے دوران پہلے مرحلہ وار تجارت بڑھانے کے لیے وفود کے تبادلے ہوں گے۔ مصر کی قاہرہ یونیورسٹی میں پاکستانی طلبا کو تعلیم کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیر اعظم نے ملائشین وزیر خارجہ سے تباہ کن سیلاب پر تعزیت کی۔ اور سری لنکا میں سائیکلون کے باعث تباہی پر پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد بھیجی۔ افغانستان امداد بھجوانا افغان عوام کے لیے انسانی ہمدردی سے متعلق تھا۔ اور یہ امداد اقوام متحدہ کی درخواست پر بھجوائی جا رہی ہے۔
انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات سے لاعلمی کا اظہار کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں۔ تاہم ان مذاکرات سے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اگر پاک افغان سرحد کھولنے سے دہشتگردی ہوتی ہے تو سرحد بند رہنا بہتر ہے۔ سرحد کھولنے سے اپنے عوام اور شہریوں کو تحفظ زیادہ اہم ہے۔ جبکہ افغانستان امدادی قافلہ جانے یا نہ جانے کے حوالے سے علم نہیں۔ تاہم افغانستان میں امدادی قافلہ بھیجنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والوں کو اڈیالہ جیل کے باہر امن خراب نہیں کرنے دیں گے، عطا اللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر مکمل حمایت دہراتا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کی 33ویں برسی کل ہو گی۔ اور بابری مسجد کی شہادت آج بھی گہری تشویش اور دکھ کا باعث ہے۔ بابری مسجد کی شہادت برداشت اور مذہبی امتیاز کے خلاف کھڑا ہونے والوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔
