نئی دہلی: بھارتی اداکار سنجے دت نے کہا کہ مجھے 1993 میں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جس کے بارے میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ کن بنیادوں پر مجھے جیل بھیجا گیا۔
بالی ووڈ اداکار سنجے دن نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران اپنی زندگی کے انتہائی کٹھن مرحلے پر روشنی ڈالی۔ جو انہوں نے جیل میں گزارے۔
سنجے دت نے کہا کہ جیل میں گزارا گیا وقت شخصیت اور سوچ میں نمایاں تبدیلی کا سبب بنا۔ جیل میں قانون کی کتابیں پڑھنے، عبادت کرنے اور اپنی ذہنی مضبوطی کو برقرار رکھنے میں وقت گزارا۔
بھارتی اداکار نے قانونی مسائل اور ان مشکلات کا بھی ذکر کیا جن کا انہیں جیل میں سامنا کرنا پڑا۔
سنجے دت نے اپنی گرفتاری کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد واقعے کے بعد ان کے اہلخانہ شدید دباؤ اور دھمکیوں کی زد میں تھے۔ ان پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔ حالانکہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 5 سال کی سزا مکمل کرنے کے باوجود وہ آج تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں کن بنیادوں پر جیل بھیجا گیا۔ اور عدالتوں نے بعد ازاں تسلیم کیا کہ اُن کا بم دھماکوں کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
بھارتی اداکار نے کہا کہ جیل کو انہوں نے مشکلات کے آگے جھکنے کے بجائے زندگی کے اہم اسباق کے طور پر قبول کیا۔ اور ثابت قدمی و صبر سے کام لیا۔
یہ بھی پڑھیں: رشمیکا مندنا نے وجے دیوراکونڈا کے ساتھ شادی کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی
واضح رہے کہ اداکار سنجے دت کو 1993 کے ممبئی بم دھماکوں سے منسلک اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اور ان کو بھارتی عدالت کی جانب سے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
