حکومت پنجاب نے 16 سال کے بچوں کو اسمارٹ کارڈ، موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں ایک تاریخی اور عوام دوست پالیسی متعارف کروا دی ہے جس کے تحت 16 سال کی عمر کے نوجوان اب باقاعدہ طور پر اسمارٹ کارڈ اور موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر سکیں گے۔
کراچی میں ایک اور بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، ویڈیو وائرل
اس نئی پالیسی کا مقصد کم عمر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائیوں کے بجائے انہیں قانونی راستہ فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر طلبا کی گرفتاری رکوا دی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کم عمر طلبا سے زیادہ والدین ٹریفک قوانین پر عمل کروانے میں کردار ادا کریں، ٹریفک قوانین شہریوں کی جان محفوظ بنانے کے لیے بنائے جاتے ہیں، اپنی حفاظت کے لیے عادات بدلنا ہوں گی۔
واضح رہے کہ اس پالیسی سے قبل پنجاب میں کم عمر موٹر سائیکل سواروں کو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جن میں موٹر سائیکلوں کی ضبطی، والدین کو تھانے بلا کر تنبیہ کرنا، بھاری جرمانے اور چالان، بار بار خلاف ورزی پر بچوں کی گرفتاری شامل تھے۔
ان اقدامات سے شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی تھی، خصوصاً ان خاندانوں میں جو روزمرہ سفر کیلئے موٹر سائیکل پر انحصار کرتے ہیں۔
اس عمل سے کم عمر بچوں کی گرفتاریوں میں واضح کمی آئے گی، ہر نوجوان سوار کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہوں گی، کم عمری میں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کو فروغ ملے گا۔
ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لئے اہلیت
موٹر سائیکل لائسنس حاصل کرنے کیلئے درخواست دہندہ کو لازمی طور پر کم از کم 16 سال کا ہونا ضروری ہے، پنجاب کا رہائشی ہونا چاہئے، امیدوار موٹر سائیکل چلانے کی بنیادی صلاحیت رکھتا ہو، مطلوبہ دستاویزات مکمل ہوں، لرنر پیریڈ کے بعد بنیادی ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جائے گا جسے پاس کرنا ضروری ہو گا۔
درکار دستاویزات
موٹر سائیکل کا لائسنس بنوانے کے لئے والد کے شناختی کارڈ کی کاپی، شناخت اور سرپرستی کی تصدیق کیلئے نادرا کی جانب سے جاری کردہ ب فارم ہونا بھی ضروری ہے۔
16 سالہ امیدوار کیلئے لازمی دستاویز میں تصدیق شدہ پاسپورٹ سائز دو تصاویر، اسکول ٹیچر، گزیٹیڈ آفیسر یا مستند اہلکار کی جانب تصدیق ہونا ضروری ہے۔
اسکول یا کالج کا کارڈ، شناخت اور طالب علم ہونے کی آسان تصدیق کیلئے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ اگر مانگا جائے تب۔ والدین یا سرپرست کی رضا مندی۔
یہ نیا نظام پنجاب حکومت کا نوجوانوں کو سہولت دینے اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کو مثبت انداز میں بہتر بنانے کی ایک بڑی پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔
