امریکا میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی پر پاکستانی نژاد امریکی شہری کی گرفتاری پر پاکستان کے دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آ گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی شہر ڈویلا میں گرفتار شخص پاکستانی نہیں افغانی ہے ،امریکی پولیس نے افغان نژاد لقمان خان کے گھر اور گاڑی سے اسلحہ بارود برآمد کیا، پاکستانی شہری کی امریکا میں گرفتاری سے متعلق میڈیا پر بے بنیاد خبر چلائی گئی۔
واشنگٹن میں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنیوالے افغان شہری کا الزامات سے انکار
ترجمان نے بتایا کہ لقمان خان کے پاس امریکا اور افغانستان کی دہری شہریت ہے، افغان شہری نے بیشتر زندگی امریکا میں گزاری، لقمان خان نے کچھ وقت افغان پناہ گزین کیمپ میں گزارا۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی شہر ڈیلاویئر میں پاکستانی نژاد امریکی نوجوان کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ 25 سالہ لقمان خان کو24 نومبر کی رات گرفتار کیا گیا ، پولیس نے کینبی پارک ویسٹ میں ایک ٹرک کو روکا جس میں لقمان موجود تھا، لقمان نے گاڑی سے باہر نکلنے کے احکامات پر عمل نہیں کیا اور مزاحمت پر گرفتار کیا۔
وائٹ ہائوس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والے افغان شہری کے بارے میں مزید انکشافات
امریکی میڈیا نے پولیس کے حوالے سے بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران لقمان کے ٹرک سے پستول، میگزین اور مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کی دستاویز برآمد ہوئی۔ دستاویز میں یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے پولیس اسٹیشن کا خاکہ، داخلی اور خارجی دروازوں کے نشانات اور ایک پولیس افسر کا نام درج تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایف بی آئی نے گرفتاری کے ایک روز بعد 25 نومبر کو لقمان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا جہاں سے مزید جدید اسلحہ برآمد کیا گیا۔
