وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ نوازشریف سینئر ترین سیاستدانوں میں سے ہیں، نوازشریف بات وہی کرتے ہیں جس کو وہ درست سمجھتے ہیں۔
ہم نیوزکے “پروگرام فیصلہ آپ کا” میں گفتگوکرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ موجودہ ہونے والی تمام ترامیم نوازشریف کی مشاورت سے ہوئی ہیں، چیف آف دی ڈیفنس فورسزکے نوٹیفکیشن کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس کا عہدہ ختم ہونے والے دن نوٹیفکیشن ضروری نہیں تھا، یہ ایک نیا آفس ہے، نیا ادارہ ہے جس کے لئے آئینی ترمیم ہوئی ہے، چیف آف دی ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پراختلا ف ہو ہی نہیں سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی ایف کی سفارش پرہی وائس چیف آف آرمی اسٹاف تعینات ہوگا، سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے وزیراعظم آفس سے ہی بتا سکتا ہے،اگلے 2،4 دن میں سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن آنا چاہئے۔
کسی قیدی کے ساتھ ان کی فیملی اوروکلا کی ملاقات کی ہم مخالفت نہیں کرتے، ملاقات کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے، بانی پی ٹی آئی نےجیل کے اندر بیٹھ کر انہی ملاقاتوں کے ذریعے ٹرمپ کو جتانے کی بات کرتے تھے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی کمانڈر کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
بانی پی ٹی آئی نے انہی ملاقاتوں کے ذریعے غیرملکی اخبارات میں مضامین بھی شائع کیے، 26نومبر کو ان کا احتجاج کرنے کا پروگرام تھا، یہ ملاقاتیں ہی ان سب کا ذریعہ بننا تھا، پچھلے26نومبر اور 9مئی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی۔
کل بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات ہوئی، بانی پی ٹی آئی نے عظمیٰ خان کا حال بھی نہیں پوچھا، وہاں پر جتنی گفتگوہوئی وہ حکومت خلاف ہوئی، حکومت اس طرح کیسے ان باتوں پراجازت دے سکتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کوجیل میں ہرقسم کی سہولیات دی ہوئی ہیں، جیل میں تحریک چلانے کی بات کریں گے تو حکومت جیل سپرٹینڈنٹ سے پوچھ سکتی ہے، نوازشریف نے کبھی بھی بانی پی ٹی آئی سے متعلق بات نہیں کی اور نہ کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔
نوازشریف نے ہمیشہ مکافات عمل کی بات کی ہے، ملک کو آگے بڑھنے دیا جائے، وزیراعظم نے 3 بار فلور آف دی ہاؤس پر مذاکرات کی بات کی، ڈیڈلاک ہمیشہ ڈائیلاگ سے دور ہوتے ہیں۔
